بہت شور سنتے ”ہیں“ پہلو میں دل کا

پاناما لیکس نے میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ۔ یہ حال صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کا میڈیا پاناما لیکس کے گرد طواف کررہا ہے ۔ ہرچند ای-لیکس کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے مگر پھر بھی یہ ایسی کوئی جدید شے نہیں ۔ یادش بخیر عرب اسپرنگ کا آغاز بھی ایسی ہی لیکس کے زریعے کروایا گیا تھا۔ اس کے بعد فلک کی آنکھ نے کئی کئی لیکس دیکھے گو کہ اس سے پیشتر بھی دیکھتے رہے مگر ویکی لکس کے بعد کچھ زیادہ توجہ سے دیکھا گیا۔ گویا دبستاں کھل گیا اور ایک کے بعد ایک لیک منظرِ عام پر آنے لگی۔

؎

مرے نالے نے گلشن میں نئی طرزِ فغاں رکھ دی
میں گویا کیا ہوا گویا کہ ہر منہ میں زباں رکھ دی

ویکی لیکس ،اسنوڈن کے انکشافات، لیکسم برگ لیکس، ساراپیلن اور ہلری کلنٹن کی ای میلز، اوروغیرہ وغیرہ کے بعد یہ پاناما لیکس۔پاناما لیکس کو کم از کم یہ اعزاز ضرور حاصل رہے گا کہ یہ ملکِ عزیز میں میموگیٹ کے بعد مقبول ترین لیک رہی ہے ۔ایک کروڑ سے زائد صفحات پر مبنی صحافت کی دنیا کی سب سے بڑی لیک ایک جرمن اخبار ساؤڈیچ زائٹنگ نے اپنی ویب سائٹ پر دو روز پہلےپیش کی ۔ جرمن اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اہم دستاویزات ان کی تحویل میں گزشتہ ایک سال سے موجود ہیں ۔ پاناما میں موجود موساکفونسیکا نامی لاء کمپنی سے یہ دستاویزات حاصل ہونے کی تفصیل ادارے نےظاہر نہیں کیں صرف یہ کہہ دیا کہ انہیں ایک  ”مخفی“ زریعے سے یہ دستاویزات حاصل ہوئے ہیں اور زرائع نے اس اہم معلومات کے عوض نہ کوئی مال طلب کیا ہے اور نہ ہی اسے کسی نوعیت کی تشہیر درکار ہے۔

؎ نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا

یہ بھی پڑھیں:   علمی اختلاف، اعلی اخلاق اور متجددین

بعد ازاں ادارے نے دنیا کے اسی ممالک کے ایک سو سے زیادہ خبررساں اداروں کے تعاون سے تحقیقات کا آغاز کیا جس میں دنیا بھر سے چارسو صحافیوں نے شرکت کی اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ای میلز، تصاویر، پی ڈی ایف دستاویزات حاصل کیں۔ اس تحقیق کا اصل مقصد تو کچھ عرصے بعد ہی پتا چل سکے گا ۔ اس وقت تو یہ بتایا جارہا ہے کہ دولاکھ سے زائد آفشور کمپنیز کے مالکان اور حصہ داروں کے نام پتے ظاہر کئے گئے ہیں۔ جس میں تقریباََایک درجن موجودہ و سابقہ حکمران شامل ہیں۔ ملکِ عزیز کے حکمرانوں کا نام بھی اسی فہرست کے حوالے سے لیا جارہا ہے ۔ اس میں سب سے دلچسپ صورتحال روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہے ۔ جن کے متعلق روسیوں کا کہنا کہ ان ایک کروڑ سے زائد دستاویزات میں سے کسی ایک صفحے پر ، روسی صدر کا نام تک نہیں ہے مگر دنیا بھر کے اخبارات، ٹی چینلز روسی صدر کی تصاویر یوں دیکھا رہے ہیں گویا وہی اس لیک میں ثابت ہونے والے سب سے بڑے مجرم ہوں۔ جبکہ معاملہ صرف اتنا ہے کہ ان کے بچپن کے کسی دوست کا نام ان صفحات پر تحریر ہے ۔ اہلِ مغرب ، امریکہ اور روس میں پہلے ہی خس وخاشاک تلے چنگاریاں موجود ہیں اسی خبروں یا ایسی اشاعتوں سے ملکوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگا۔ روس کہتا ہے پاناما پیپر کا مقصد روسی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونا اور انکے سربراہِ ریاست کو کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی بدنام کرنا ہے ۔ پاناما پیپر کویوایس ایڈ (USAID) نامی مشہور امریکی ادارے کی امداد حاصل ہے ۔ جی ہاں یہ وہی امریکن ایڈ ہے جس کی امداد ہمارے ہاں کے بھی کچھ نشریاتی اداروں کو حاصل ہے اورخود یہ ادارہ ایک امیر یہودی بزنس مین جارج سورس کی بھرپور امداد سے چل رہا ہے ۔جارج سورس پر کچھ عرصہ پہلے بھی جانبدارانہ رویے پر تنقید ہوتی رہی ہے اور یہ زیادہ پُرانی بات بھی نہیں۔دوسری طرف سعودیہ عرب کے شاہ سلیمان کی طرف سے ابھی تک کوئی بات سامنے نہیں آئی، شائد انہوں نے اس خبر کو اتنی اہمیت ہی نہیں دی جبکہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں سعودیہ عرب کو اس خبر پرتوجہ دینی چاہیئےتھی اور ہو سکتا ہے انہوں نے توجہ دی بھی ہو مگر بیان نہ دیا ہو۔ یہی حال شام کا ہے وہاں بھی پانامالیکس کی ٹائمنگ بہت اہم ہے ۔ گو کہ شام پہلے ہی حالتِ جنگ میں ہے مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب اس جنگ کا آخری دور چل رہا ہو۔ یہ تو وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اونٹ کب تک اور کس کروٹ بیٹھے گا مگر اتنا ضرور ہے بیرونی قوتیں تادیر ایک ہی صورت پر قناعت نہیں کر سکیں گی۔ روس ، سعودیہ ، چین اور شام کی طرح پاکستان بھی اس خبر کے حوالے سے ایک انتہائی اہم ملک ہے۔ لیکن پاکستان کو اس سلسلے میں ایک امتیازی حثیت حاصل ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کے مثبت معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے کی بدولت یہاں کسی بہت بڑی تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے ۔ عرب اسپرنگ میں ایک طرف تو مظبوط بیرونی عمل دخل تھا تو دوسری طرف کمزور معاشرتی اور سیاسی ڈھانچہ جس نے بیرونی طاقتوں کی حوصلہ افزائی بھی کی اور اندونی موقع پرستوں کو پُر امید بھی رکھا، لہذا وہ گرم جوشی سے برسرِپیکار رہے ۔یہ ضروری نہیں کہ منصوبہ سازہر ملک میں ایک ہی جیسے تنائج چاہتےہوں بلکہ کہیں فوری اور کہیں دوررس نتائج کےلیے بھی کوشش کی جاتی ہے ۔لہذا اس سے پاکستان میں کسی نوعیت کی خانہ جنگی (خاکم بدہن)کے امکانات تو دور دور تک نہیں ہیں ۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ اس خبر سے پاکستان میں بہت مختلف قسم کے چھوٹے مقاصد حاصل کئے جائیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   نسبت کا فرق

پاکستان میں اس خبر کو روائتی انداز میں دیکھا گیا۔ ایک مرتبہ پھر حکومت اور اپوزیشن میں گرماگرم بیانات اور تندو تیز ٹاک شوز کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے ۔ ویسے تو یہ سلسلہ ٹی وی چینلز کے دم قدم سے کبھی ٹھنڈا پڑتا ہی نہیں مگر اب اس سلسلے میں اینکر کو اپنی صلاحیتوںکا اظہار نہیں کرنا پڑتا بلکہ شرکاء شو، از خود ہی سخت جملوں کا تبادلہ شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کا مطلب کیا ؟

وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف براہِ راست خود تو نہیں مگر ان کے بچوں کے نام اس فہرست میں شامل ہیں ۔ مریم اور حسین نواز نے میڈیا پر آکر الزامات کا دفاع بھی کیا اور مزید الزامات کیلئے راہیں بھی ہموار کرگئے۔ بہرحال یہ توطے ہےکہ ایسی بھرپور مشق نہ بے وجہ کی جاتی ہے اور نہ ہی اس میں سرمایا پھونکا جاتا ہے ۔ اور اس کا یہ مقصد تو ہر گز نہیں ہو سکتا کہ سوشل میڈیا پر نون لیگ اور تحریکِ انصاف کے کارکن ایک دوسرے کو پٹواری اور یوٹرن کہہ کہہ کر چھیڑتے رہیں۔


تحریر: حسن علی امام

(167 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں