پاکستانی ڈاکٹروں کا حال

مجھے باقی ڈاکٹرز کا تو نہیں پتہ پر ہمارے یہاں سی پی برار سوسائٹی میں تین عدد ڈاکٹر عوام کی خدمت کے لیے موجود ہوتے ہیں۔۔ دادا گارڈن کے نیچے ڈاکٹر اقبال احمد بٹاویہ، ایپل گارڈن کے پاس ڈاکٹر روبینہ اشرف اور مدینہ ویو کے نیچے ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب کا کلینک موجود ہے۔۔۔ ایک ہی محلے میں ایک ساتھ تین ڈاکٹروں کے کلینک یقینا ایک نعمت سے کم نہیں۔۔۔ تھوڑا سا آگے چلے جاؤ تو نیشنل چورنگی کے پاس ڈاکٹر مختار صاحب بھی موجود رہتے ہیں۔
ان کی قابلیت پہ کوئی شک نہیں، ڈاکٹر اقبال کے پاس تو ما شاء اللہ سے بہت دور دور سے لوگ آتے ہیں۔
ساری اچھائیاں ایک طرف۔۔۔۔ ایک بات جو ان ڈاکٹرز کی بری لگتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ بندہ ان کو گولی سے اڑا دے، وہ یہ ہے کہ یہ ایک ایک مریض کے ساتھ گھنٹہ لگاتے ہیں۔۔۔ باہر ویٹنگ لاؤنج میں بیٹھے لوگ چاہے گرمی میں پگھل جائیں یا سردی میں ان کی قلفی جم جائے، ان کا نمبر کسی صورت آ کر ہی نہیں دے رہا ہوتا۔۔۔ باہر بیٹھا ہر مریض غصے میں پیچ و تاب کھا رہا ہوتا ہے اور اندر گئے ہوئے مریض کو گالیاں دے رہا ہوتا ہے۔۔۔ یہ الگ بات ہے کہ جب ان کا اپنا نمبر آتا ہے تو وہ خود بھی یہ بھول جاتا ہے اس کا نمبر آخری نہیں ہے بلکہ باہر کچھ اور بھی مریض موجود ہیں۔
ویٹنگ لاؤنج میں بیٹھا ہر بندہ متجسس ہوتا یے کہ آخر اندر ہو کیا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لال شہباز قلندر کی مشہور غزل کا منظوم اردو ترجمہ

اندر کی کہانیاں یہ ہوتی ہے کہ مریض حضرات، خاص کر کے خواتین اور اس میں سے بھی خصوصی میمن خواتین، یہ جب اندر ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں تو ایسی ایسی کہانیاں شروع کرتی ہیں کہ خدا کی پناہ!!!!!
اپنی بیماری کے ساتھ ساتھ یہ پورے خاندان کی بیماریاں بیان کریں گی، پورے محلے کے حال احوال سنائیں گی۔
اپنا آنکھوں دیکھا اور کانوں سے سنا حال ہے جب ایک محترمہ ڈاکٹر کو بتا رہی تھیں کہ
"نی وہ فلانی کو طلاق ہوگئی ہے، وہ فلانی کے بیٹی کی شادی ہے تو اس فلاں فلاں کے گھر بچہ پیدا ہوا ہے، ساس کے ساتھ یہ جھگڑا ہوا ہے اور نند نے مجھے یہ کہا ہے۔"

اور اس پہ ستم یہ کہ ڈاکٹر حضرات کا نہایت تحمل مزاجی سے یہ سب باتیں سننا، سر ہلانا اور ہاں میں ہاں ملانا۔۔ ستم در ستم یہ کہ بعض اوقات ڈاکٹر کا خود سے پوچھ لینا کہ ارررےےے آپ یہ بتاؤ کہ دیور کے لیے کوئی اچھی لڑکی ملی یا نہیں؟؟ اور پھر یہاں سے ایک کہانی کا ایک نیا باب شوہر ہوجاتا ہے جبکہ باہر کھڑے سوچ میں ہوتے ہیں کہ خدا جانے ایسی کونسی پیچیدہ بیماری ہے جو معائنے میں اتنی دیر لگ رہی ہے اور ڈاکٹر صاحب مرض کی تشخیص کرنے میں ناکام ہوئے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ لکھاری ہیں

ارررےےے بھئی اللہ کے بندوں!! دیکھ لیا نا مریض کو اب چلو نکالو اسے باہر، اگر نہیں نکلتا تو اگلے مریض کو اندر بلوا لو۔ مت سنا کرو ان خواتین کی کہانیاں۔۔۔۔ ڈاکٹر ہو یا آستانے والے بابا ہو جو گھر کی کہانیاں آرام سے سن لیتے ہو۔ حد ہے بھئی۔

اب بتائے زرا۔۔ ایسی صورت میں کون کلینک جا کر شام میں نمبر لے اور رات بارہ بجے تک اپنی باری آنے کے انتظار کی زحمت اٹھایا کرے۔۔اگر آپ کے محلے میں بھی ایسے ڈاکٹر پائے جاتے ہیں تو چھوڑو یار ان کو۔۔۔۔ آؤ چلوسب !! طبیعیت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں فیس بک پر ہی رمشہ جلال، مزمل شیخ  بسمل، شہر بانو، رابعہ خرم درانی و دیگر سے رابطہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بحر الفصاحت از مولوی نجم الغنی خاں رام پوری

ویسے سچی بات بتاؤں۔۔ ڈاکٹرز کو جو مریض اتنا پریشان کرتے ہیں ان میں بھی ڈاکٹرز کی اپنی غلطی ہوتی ہے۔
کچھ ڈاکٹرز اتنے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ بندہ سوچتا ہے کہ اپنے ساتھ ساتھ پورے محلے کی بیماری بھی بیان کرلیں۔ کچھ ڈاکٹرز اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ ان کو دیکھتے ہی خواہ مخواہ مریض بن جانے کو دل کرتا ہے۔
جیسے رمشہ جلال۔ نام میں جلال ہے لیکن دیکھنے والے کہتے ہیں کہ حسن باکمال ہے۔ اسی طرح مزمل شیخ بسمل، ان کے اپنے نام میں بسمل لگتا ہے لیکن ان کو دیکھتے ہی اچھے خاصے لوگ بسمل ہو جاتے ہیں۔
ایسے ایسے حسین شاہکار ڈاکٹر بن کر آتے رہیں گے تو مریضوں کی تعداد میں اضافہ کیسے نہ ہوگا؟


تحریر: امامہ عالم

(164 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. yasirajkhani yasirajkhani says:

    kisi ka name likh kr social media par aesi tehreer likhna akhlaqiat k usoolon k munafi hai. general sense mn baat krni chahye.

تبصرہ کریں