اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ہمارا کردار

اس موضوع کو اگر ماضی کے دریچوں میں گھس کر دیکھا جائے تو ایک روشن کِرن دِکھائی دیتی ہے اور ٦٨ برس پہلے کے آئینے میں ایک اُمید دکھائی دیتی ہے ۔ ایسی کِرن اور ایسی اُمید جسے ہم آج "اِسلامی جمہوریہ پاکستان" کے نام سے مخاطب کرتے ہیں۔ اِس کے حُصول کی خاطر ہمارے اَکابرین نے جس حَد تک قربانیاں دیتے ہوئے اپنا مقدس لہو پیش کیا وہ ناقابلِ بیاں ہیں۔ اس ملک کی خاطِر ماؤں نے اپنے جگر گوشے کھوئے تو ایک طرف عورتوں نے اپنے سُہاگ داؤ پہ لگائے اور کتنے بچے یتیم ہوئے دوسری طرف خون کی ندیاں بہائی گئیں۔ تب جاکر یہ ارض ِپاک بنام "اسلامی جمہوریہ پاکستان" اس دنیا کے نقشے پر رونماں ہوا۔ اُس وقت لوگوں کے کردار کچھ یوں تھے کہ میرے ذہن کے پسِ پشت پردوں پر اس ماں کی آہیں اٹھتیں ہیں، کہ جب قائدِاعظم محمد علی جناح اور فاطمہ جناح ریلوے اسٹیشن پر ہجرت کرکے آنے والے لوگوں کا انتظار کررہے تھے اور دھند وغبار کو مقراصِ ہوا سے چاک کرتی ہوئی ٹرین ریلوے پر آکر رکتی ہے تو وہ ماں اپنی بیٹی کی پڑی نعش سے لپٹ کر اشکوں سے بھیگ جاتی ہے اور سفّاک قاتل کو بددعائیں دیتی ہے۔ یہ قربانی صرف اس ارضِ پاک کیلئے دی گئی تھی۔

مگر آج جب اس ارضِ پاک کی جانب نگاہیں اٹھتی ہیں تو ماضی دھندلاتا ہوا محسوس ہوتا ہے، شمع بجھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، پروانے اڑتے دکھائی پڑتے ہیں، کِرن غروب ہوتی محسوس ہوتی ہے اور امید ناامیدی میں ڈھلتی محسوس ہوتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت - ظالم بھی مظلوم بھی

"جو دیکھتا ہوں وہی  بولنے  کا  عادی  ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں"

ہمارا دعوٰی تو ہوتا ہے کہ ہم اس سے بہت محبت کرتے ہیں مگر اس کردار میں کہ بقولِ شاعر

"میں جس سے پیار کرتا ہوں
اُسی  کو  مار  دیتا  ہوں"

تو ہم بھی اس فریضے کو بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان اور ہمارا کردار بھی کچھ یونہی ہے۔ آج ہماری پاکستانیت تو یہ ہے کہ ایک رب کے فرمانبردار، ایک رسول کے تابعدار، ایک کتاب کے پیروکار، ایک ہی پرچم کے نیچے اپنی مسلمانیت کو بھول کر اپنی پاکستانیت کو بھول کر کبھی الگ الگ پرچم تھامے تو کبھی تُو مہاجر مَیں پٹھان کے نام پر تو کبھی شیعہ سنّی کے نام پر میدانِ کربلا سجانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ اس افراتفری میں کبھی یہ زمیں آرمی پبلک اسکول کے بچوں کے لہو سے سرخ ہوتی ہے تو کبھی ان آدم کی بیٹیوں کے لہو سے گرم ہوجاتی ہیں جنہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے تو کبھی یہی زمین لال مسجد کی ان ماؤں بہنوں کے خوں کا مزہ چکھتی ہے جنکی موت آج سوالیہ نشان ہیں اور جنکی روحیں آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔ یہ زمیں اس باپ کے خون کی بھی قرض دار ہے کہ جن کی بچی آج بھی منتظر ہیں اور جن کے لب آج بھی اس نغمے سے سرشار ہیں کہ  "بابا چُوڑیاں کب لائینگے؟ بابا چُوڑیاں کب لائینگے؟"

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۱

"تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیئے اے ارضِ وطن
جو ترے  عارضِ بے رنگ  کو  گلزار  کرے"

دوسری جانب ہم ہمارے اقتدار پر بیٹھے عیّاش لوگوں کی طرزِ زندگی پر نگاہیں دوڑاتے ہیں کہ جو ہاتھ دھونے کیلئے بھی منرل واٹر استعمال کرتے ہیں تو ان کے زیرِ وزارت لوگ پینے کے پانی کو بھی ترستے ہیں اُدھر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ڈنر کی دعوتیں ہوتیں ہیں تو اِدھر غریب یا تو کچرے سے چن کر اپنے پیٹ کو دلاسے دینے کی کوشش کرتا ہے یا بھوک سے موت کا ذائقہ چکھنا قبول کرتا ہے ۔ اس ارضِ پاک کا حق کچھ یوں ادا کیا جارہا ہے جس سے جتنا بھرا جاتا ہے بھرتا ہے چاہے وہ عوام ہو یا حکمران ہر کوئی اس ملک کا حق ادا کرنے میں مصروف ہے بس فرق اتنا ہے کہ حکّام لاکھوں میں بھر رہے ہیں تو ادھر ہم بیس یا تیس روپے درجن کیلے رمضان کا چاند نظر آتے ہی ایک سو بیس یا ایک سو تیس روپے درجن کرکے لوٹ رہے ہیں ہم اس ملک کا حق پہ حق ادا کرتے جارہے ہیں تو اب اس کے بعد اس بات کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں کہ کبھی کسی ملک سے تو کبھی کسی ملک سے قرضے لئے جائیں۔ در حقیقت ہم نے ایک علٰیحدہ زمین کا ٹکڑا تو حاصل کر لیا مگر آزاد آج تک نہیں ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسان کی حقیقت اور اس کا مقصد

"ہمیں تو برق بھی حیرت سے دیکھتی ہوگی
کہ ہم نے  پھونک دیا  خود ہی  آشیاں  اپنا"

آج اس ملک کو ہماری سخت ضرورت ہے اور یہ ضرورت تب ہی ہوری ہوسکتی ہیں جب ہر شخص ایک شمع سا کردار ادا کرے کہ جو خود تو جل جاتی ہے مگر سارے عالم کو روشن کردیتی ہے اور ایک پختہ عہد کی ضرورت ہے اور پھر سے ان کرداروں میں ڈھلنے کی ضرورت ہے کہ جن کے حاملین کو اقبال نے شاہین تو قائد نے مستقبل کے معمار کہا تھا۔

تحریر: سلمان شیخ (کراچی)


مصنف کے بارے میں

سلمان شیخ صاحب کا تعلق کراچی سے ہے ۔ وہ ایک نو جوان سالِ اول پری انجینئرنگ کا طالبِعلم ہیں ۔ اردو زبان سے لگاؤ اور وابستگی رکھتے ہیں۔ گزشتہ چار سالوں سے تحریری و تقریری میدان میں سرگرم ہیں۔ مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔
اردو سرائے کے لیے ان کی بھیجی گئی یہ تحریر اس بات کی ضامن ہے کہ ان میں لکھنے کی اور قلم کی دنیا میں آگے بڑھنے کی جستجو موجود ہے۔

(18 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں