پیش خیمہ موت کا خوابِ گراں ہو جائے گا

یاس یگانہ یوں تو بدنام زمانہ ہیں اور اسی باعث شاید انکی شاعری انٹرنیٹ پر ملنا ایک خواب جیسی بات ہے۔ ملنے کو تو ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کا کلام بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے مگر یاس کی قسمت!! خیر، یاس ایک انتہائی اونچے پائے کے شاعر ہیں اور جو حضرات ان کا کلام ملاحظہ کر چکے ہیں وہ خوب جانتے ہیں۔
انکی ایک بہت ہی خوبصورت غزل ابھی میری نظر سے گزری تو سوچا کے بلاگ کے قارئین کی نذر کردوں۔ پڑھیں اور اپنے خیال سے آگاہ فرمائیں: 


پیش خیمہ موت کا خوابِ گراں ہو جائے گا
سیکڑوں فرسنگ آگے کارواں ہو جائے گا

قالبِ خاکی کہاں تک ساتھ دے گا روح کا
وقت آ جانے دو اک دن امتحاں ہو جائے گا

چپکے چپکے ناصحا، پچھلے پہر رو لینے دے
کچھ تو ظالم، چارۂ دردِ نہاں ہو جائے گا

شب کی شب مہماں ہے یہ ہنگامۂ عبرت سرا
صبح تک سب نقشِ پائے کارواں ہو جائے گا

چشمِ نا محرم کجا اور جلوۂ محشر کجا
پردۂ عصمت وہاں بھی درمیاں ہو جائے گا

اشک ٹپکے یا نہ ٹپکے دل بھر آئے گا ضرور
آہ کرنے دیجئے آپ امتحاں ہو جائے گا

سایۂ دیوار سے لپٹے پڑے ہو خاک پر
اٹھ چلو ورنہ وہ کافر بد گماں ہوجائے گا

یاسؔ اس چرخِ زمانہ ساز کا کیا اعتبار
مہرباں ہے آج، کل نا مہربان ہو جائے گا

(19 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں