چائے کے کپ سے موبائل فون چارج

موبائل فون چارج کرنا غالباً ہم سب کے لیے دن کے مختلف کاموں میں ایک اہم کام ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے آس پاس بکھری پڑی سیکڑوں اشیا کی طرف نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ہر طرف توانائی کا ایک بہت بڑا حصہ ہے جو ضائع ہوتا جا رہا ہے۔ اور عمومی طور پر ہم اس طرف دھیان دینے کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے۔ حرارت یا گرمی (Heat) ان میں سے ایک بہت اہم شئے ہے۔ اپنے گھر میں لیپ ٹاپ، ائیر کنڈیشنر، ریفریجریٹر یا پھر اپنے چائے یا کافی کے مگ سے نکلنے والی حرارت کی طرف نظر ڈالیے۔ یہ حرارت توانائی ہی کی قسم ہے جو ہر روز کی بنیاد پر ناقابلِ استعمال بنتی جا رہی ہے۔

اسی پر غور کرتے ہوئے ڈینمارک کے دو طلبا نے ہیٹ ہارویسٹ (Heat Harvest) کا آئڈیا دیا ہے۔ ہیٹ ہارویسٹ ایک ایسا نظام ہوگا جس میں تھرمو الیکٹرک جنریٹر ہو۔ یہ نظام آپ کی ڈائننگ ٹیبل، ٹیلیویژن کی ٹرالی یا پھر ریفریجریٹر وغیرہ میں نصب کیا جاسکے گا۔ جو آپ کے ٹیلیویژن، چائے، کافی یا کھانے کی پتیلیوں کی گرمائی کو جذب کرکے اسے برقی توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ ہیٹ ہارویسٹ کا یہ تصور فی الحال حقیقت کے روپ میں سامنے نہیں آیا لیکن امید ہے کہ بہت جلد اس تصور کو سچ ہوتا ہوا دیکھا جاسکے گا کیونکہ تھرمو الیکٹرک جنریٹر کی ٹیکنالوجی پہلے ہی موجود ہے جو ٹیمپریچر کے فرق کو برقی توانائی میں تبدیلی کے اصول پر کام کرتی ہے، ایٹمی سطح پر ٹیمپریچر کا فرق دو اجسام میں چارج کو زیادہ ٹیمپریچر سے کم ٹیمپریچر والے ایریا تک لے جانے پر اکساتا ہے یعنی الیکٹرانز گرم سطح سے نکل کر ٹھنڈی سطح تک جانا شروع ہوتے ہیں اور نتیجتاً ٹھنڈی سطح زیادہ منفی چارج اور گرم سطح زیادہ مثبت چارج کی حامل بن جاتی ہے ۔ ٹیمپریچر میں فرق کی بنیاد پر وولٹیج کے بننے کا یہ اصول تھرمو الیکٹرک افیکٹ کہلاتا ہے۔

گویا عنقریب ہم اپنے برقی آلات یا موبائل فون چارج کرنے کے لیے روایتی طریقوں کے محتاج زیادہ دنوں تک نہیں رہنے والے۔ فی الحال انتظار کیجیے۔

(112 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں