ڈورے مون اور ہمارے بچے

کارٹون کی دنیا بڑی رنگین، بےحد تخیلاتی ہوتی ہے۔ خوبصورت رنگوں سے مزین، دلآویز مناظر، مسحور کن لائٹس اور کہانی کے اتارچڑھاؤ، اور سچوئشن کے مطابق موسیقی کی دھنیں بچوں کو کتنی مسرتیں دے جاتی ہیں اس کا احساس مجھے اس لیے بھی ہے کہ میں ابتک ان کے سحر سے نہیں نکلی اور مارکس اور ہیگل کی تھیوری پڑھنے اور سمجھنے کے عمل سے گزرنے والی کو دیکھ کر کون یہ کہ سکتا ہے کہ ٹام َاینڈ جیری آج بھی میرے فیورٹ ہیں۔

یہ تحریر بھی پڑھیں    icon-hand-o-left    منٹو اور اس کے جانشین

عصر حاضر میں سماج میں بے پناہ تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئی ہیں ان تبدیلیوں نے جہاں بہت سی قدریں، رویہ، طرز معاشرت، رسم و رواج پر اثر ڈالا ہے وہاں پر ہی ہماری پسند و ناپسند کوبھی بدلا ہے ان جدید برقی تبدیلیوں نے ہمارے گھر کے ماحول کو بھی بدلا ہے۔

ماہرین سماجیات کہتے ہیں کہ سماجی رویے سکھانے میں اہم کردار والدین کا ہے گھر سے نکل کر بچہ باہر کی دنیا سے متعارف ہوتاہے جن میں اساتذہ، دوست، محلہ دار اس کے تعلم میں اضافہ کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے میڈیا کے کردار کو سب سے آخر میں رکھا گیا ہے۔ مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سب سے زیادہ اثر ٹی وی پروگرامز جن میں سرفہرست کارٹون، ڈرامے، موسیقی، فلمیں وغیرہ ہمارے عہد کے کم سن زہنوں پر گہرا اور دیرپااثر چھوڑ رہے ہیں۔

امن! بات نہیں سنتا، بدتمیز ہو گیا ہے میری بہن، گل اکثر جھلاتے ہوےاپنی مخصوص لائن دہرانے کی عادی سی ہو گئی ہے۔ جس پر میں اکثر اسے چھیڑتے ہوئے کہتی ہوں کہ یہ خاندانی اثر ددھیال کی مرہون منت ہے، تو بدلے میں اک گھوری منتظر ہوتی ہے اس کی یہ جھلاہٹ مجھے سوچ میں مبتلا کر جاتی ہےکہ۔ پانچ سال کا امن گل کی گرفت میں نہیں تو جن کے اٹھارہ انیس سال کے بچے ہوں گے، ان ماؤں کی جھلاہٹ کا کیا عالم ہو گا یہ سوچ کر ہی جھرجھری آجاتی ہے۔

امن اور گل اکثر چھٹیوں میں اسلام آباد سے مانسہرہ رہنے کے لیے آتے ہیں میرا اس بار کا سمسٹر تھیوری اور رسرچ بیس تھا لہذا رسرچ فوبیا ہو گیا اوراسی فوبیے نے مجھے امن کی طرف متوجہ کیا اور ایجوکیشن فیلڈ میں ہونے کی وجہ سے اکثر مدرز کی شکایات مجھےگل سے مختلف نہیں لگیں تو سوچا کیوں نا تحقیق کا آغاز اپنے گھر سے کروں۔

امن اور میرے درمیان دوستی کے رشتے کی بنیاد کارٹون بنےاور یوں دوستی بڑھتی چلی گئی مگر مجھے شدید حیرت کا سامنا اس وقت ہوا، جب ایک ہی کارٹون لگاتار نئی نئی ایپیسوڈ (اقساط) کے ساتھ مسلسل چلے جا رہے ہیں اگر میں غلط نہ ہوں تو اس وقت کیبل پر تین چار سٹیشن کارٹون نیٹ ورک کے نان سٹاپ چلتے ہیں ایک ہمارا دور تھاکہ کارٹون صرف آدھا گھنٹہ دیکھنے کو ملتے کیونکہ دورانیہ ہی اتنا ہوتاتھا اور دوسرے ہر شخص کو بلا تخصیص جنس و عمر کارٹون ہی دیکھنے پڑتے۔ انتخاب آسان تھا۔ مگر وقت کے تقاضوں نے کارٹون کی دنیا بھی بدل ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں:   انا الحق - ہمارے تکفیری رویے

اب ریموٹ بچے کے ہاتھوں میں ہے۔ بڑوں کی تقلید میں بچے بھی نت نئے چینلز پے سرچ کا رسیا ہو گیا ہے اگر اچھا لگے تو ٹھیک ورنہ بدل ڈالو کی پالیسی اب تین، چار سال کا بچہ بھی اپنانے لگا ہے۔ بچہ جانتا ہے کہ وہ اکیسویں صدی کا باسی ہے اور ڈورے مون 22ویں صدی میں سے آیا ہے وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہے کہ یہ تخیلاتی دنیا ہے، حقیقت سے تعلق نہیں رکھتی۔ لیکن آج کا بچہ ایسے کارٹون دیکھنے کے بعد22 ویں صدی جیسا ہو جانے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے بچہ جو دیکھے گا من وعن اسکی تقلید کرے گا۔

برصغیر میں صحافت مغرب کی دین ہے اس طرح کارٹون نگاری بھی مغرب کی دین ہے۔ کارٹون طنز و مزاح کی صنف میں شمار کیا جاتا ہے لیکن طنز و مزاح کے جتنے بھی حصے ہیں ان میں کارٹون کا شعبہ سب سے مشکل ہے بلکہ اسےمشکل ترین فن کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ کارٹون انگریزی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی تصویر کے زریعے کسی کا مضحکہ اڑانا یا مزاحیہ تصویر کے ہیں۔

یوں تو بچوں کے پسندیدہ کارٹونز میں موٹو پتلو، چھوٹا بھیم، کڈز کرش، ڈھولک چاچو، مائٹی راجو وغیرہ ہیں مگر ان سب کارٹونز میں سے صرف ڈورے مون کو ہی کیوں اختلاف کی سولی پر چڑھایا گیا؟اس بات نے تجسس کو بڑھایا تو میرے علم میں یہ بات آئی کہ ڈورے مون کے خلاف دنیا بھر کے سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں نے احتجاج کیا۔ مگر پاکستان میں پی ٹی آئی نے جب اس کارٹون کے خلاف قرارداد پنجاب اسمبلی میں پیش کی تو سوشل میڈیا پر عمران خان اور ان کی پارٹی کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی شروع ہواجو کئی والدین کی پی ٹی آئی کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہونے سے دبنے لگا۔ کیونکہ والدین بھی ڈورے مون کو انتہائی غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی لگانےکا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارتی چینلوں پر ہندی زبان میں دکھاےجانے والے جاپانی کارٹون کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں بھارت میں ایک سماجی کارکن اشیش چترویدی ڈورے مون کارٹون کے خلاف سرگرم ہو گے اور ان چینلوں کو قانونی نوٹس دے دیا۔ ڈورے مون کے مشاہدے کے بعد جو چیزیں میرے سامنے آئیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتی ہوں اور فیصلہ آپ پر چھوڑتی ہوں۔

ڈورے مون جاپانی کارٹون سیریز ہے جو کہ جاپانی کارٹونسٹ Fujjiko Fujio کی تخلیق ہے یہ 1969میں شائع ہوئی۔ ٹی وی پر پہلی بار 1973 میں پیش کیا گیا۔ بنیادی طور پر یہ مزاحیہ کارٹون پروگرام ہے۔ یہ ایک ذہین روبوٹ کی داستان ہے جو وقت میں پیچھے کی طرف سفر کرتے ہوئے 22 ویں صدی سے ہماری دنیا میں آیا ہے جو ایک چوتھی جماعت کے بچے نوبیتا کے پاس رہتا ہے اور اپنے مختلف جادوئی گیجٹس سے اس کی اور اس کے دوستوں کی مدد کرتا ہے اس کارٹون کے بے شمار منفی پہلو جو میری بے چینی کا باعث بنے اور میرے علم میں ائے۔ اس کارٹون کے دو کردار نوبیتا اور شیزو والدین کے نافرمان دکھائے گئے نوبیتا، شیزو کو متاثر کرنے کے لیے جتن کرتا ہے اور اس چکر میں انتہائی غیر اخلاقی رومانوی مناظر بھی ان کے درمیان چلتے ہیں۔ والدہ سے بات کرتے ہوئے گھمنڈی کا لفظ استعمال کرتا ہے جبکہ یہی نوبیتا شیزو سے انتہائی تمیز وشائستگی سے بات کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میں بچپن بیچ آیا ہوں

ڈورے مون میں مختلف گیجٹس( جدید آلات) کے استعمال کی ترغیب ملتی ہے۔ جس سے بچوں میں تعلیم سے عدم دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے بچوں میں اس سوچ نے جنم لیا کہ کاش ان کے پاس بھی گیجٹس ہوتے تو ان کا ہوم ورک خود بخود ہو جاتا۔

صرف ڈورے مون ہی نہیں بلکہ اس جیسے تمام کارٹون بچوں میں یہ تحریک پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں کہ جادو کا علم اچھا ہے بغیر محنت وہ جادو کے زریعے کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ گویامعصوم ذہنوں کو پرفریبی کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار اس کارٹون کے زریعے ادا کیا جا رہا ہے۔

یہ کارٹون ہندی زبان میں ترجمہ ہوتے ہیں لہذا بچے روزمرہ زندگی میں ہندی الفاظ کا بکثرت استعمال کرنے لگے ہیں جیسے شانتی، پوجا، وشواس گھاٹ وغیرہ۔ گالیوں کا استعمال بھی بکثرت دیکھنے کو ملتا ہے جیسے ڈھولک چاچو میں ایک کردار( الو کا پٹھا) بولتا ہے اور ربان کا استعمال کچھ یوں کرتا ہے میں کھانا کھاتا، کیا یہ کھاتا۔ ایسے لب ولہجے بچے جلدی قبول کر لیتے ہیں اور ان کے ازہان کو آلودہ کرتے ہیں۔ ایسی زبان ہماری معاشرتی اقدار کے منافی ہے 24 گھنٹے دکھائی جانے والے ان کارٹونز سے بچوں میں منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

یہ کارٹون بھارتی ثقافت، زبان، اور ہندو مزہب کو فروغ دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر کارٹون ہماری زندگی میں ناگزیر ہو گئے ہیں تو پھر وہ کارٹون دکھائیں جو مکمل پاکستانی معاشرے کی عکاسی کرتا ہو، جیسے (جان کارٹون) جو پاکستان کا سب سے پہلا اردو کارٹون ہے جو see tv پر دکھایا جارہا ہے۔ مکمل اصلاحی اور اخلاقی اقدار سے مزین اور اردو زبان کو صحیح لب ولہجہ اور ادائیگی کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے سب سے بڑی بات ہماری اپنی ثقافت، لباس، رہن سہن، زبان، اقدار، کو ترویج دی گئی ہے جو اس ثقافتی یلغار میں وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔

آج کے عہد کا بچہ کمپیوٹر گیمز اور کارٹون کا قیدی بن گیا ہے ٹکٹکی باندھ کر سکرین کو دیکھنے سے بچوں میں بینائی جیسے مسائل بھی بڑھے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ زہنی نشوونما اور جسمانی نشوونما بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ڈورے مون جیسے کارٹون کا سب سے منفی پہلو یہ ہے کہ ان میں جادو، اور سائنسی ایجادات کا غلط استعمال بچوں میں منفی رجحان پیدا کر رہا ہے اور بچوں کا اپنی صلاحیتوں پر اعتماد متاثر ہوا ہے وہ بھی خواہش کرتے ہیں کہ ان کے پاس بھی گیجٹس ہوں اور ان کا ہوم ورک خود بخود سے ہو جائے یہی وجہ ہے کہ بچے پڑھنے میں دلچسپی کم لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

ڈورے مون جیسے کارٹونز کو بند ہو جانا چاہیے مگر کیا یہ مسئلے کا حل ہے؟ میرا سوال والدین سے ہے اگر قانون سازی کے زریعے ان کارٹونز پر پابندی لگ بھی جائے تو کیا والدین کی پریشانی ختم ہو جائے گی؟ تو اس کا جواب ہوگا کہ نہیں۔ کیونکہ کسی بھی چیز کا بند کر دینا مسئلے کا حل نہیں کیوں کہ بچہ ہر جگہ سے سیکھ رہا ہے۔ آپ ہندی ڈراموں کا کیا کریں گے؟ جس میں پوجاپاٹ، بجھن اور سلام کرنے کی بجائے بچے نمستے سیکھ رہے ہیں آپ ہندی معاشرے کی یلغار اور وار کا مقابلہ چینلز بند کر کے کب تک کر سکتے ہیں؟ کیا یہ اس دور میں ممکن ہے؟

یہ کسی بھی صورت ممکن نہیں اب والدین پر دوہری زمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ کہ بچہ زہنی، جسمانی، اور معاشرتی سوجھ بوجھ میں ناپختہ اور خام صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔

میرے خیال میں میڈیا جو کچھ دیکھا رہا ہے، اس میں سے کتنا دیکھنا اور کیا دکھانا ہے اپنے بچوں کو؛ اب یہ فیصلہ والدین کو کر لینا چاہیئے والدین ریموٹ اپنے پاس رکھیں تاکہ بچہ چینل تبدیل کرتے ہوئے ایسے سین نہ دیکھ سکے جو اسکے کچے زہن پر برے نقوش چھوڑے۔ کیونکہ اب کارٹون میں بھی فلمی سین جیسے غیر اخلاقی مناظر کی بھر مار ہے جو بچوں سے ان کی معصومیت چھین رہی ہے۔

بچوں کو الگ کمرہ، کمپیوٹر، موبائل، جیسی سہولیات دے کر والدین یہ نہ سمجھیں کہ وہ اپنی زمہ داریوں سے اب بری الزمہ ہو گئے بلکہ یہ جدید سہولیات دینے کے بعد اس محاورے کے مطابق چلیں کہ دیں سونے کا نوالہ اور دیکھیں شیر کی آنکھ سے۔ غیر محسوس طور پر عقابی نظر رکھنا وقت کا تقاضا ہے۔ ٹی وی، ویڈیو گیمز، کارٹون کا زیادہ استعمال بچوں کو خیالی دنیا کا شیخ چلی بنانے لگے ہیں ایسے میں بچوں کوجسمانی کھیل کی طرف راغب کرنا اشد ضروری ہے تاکہ بچہ کھیل کے خوب تھکے اور گہری، قدرتی نیند لے سکے۔

بچوں کے جسمانی، زہنی، معاشرتی پہلوؤں سے رو گردانی مت کریں اگر آپ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ان کی زہنی عمر اور جسمانی عمر کے لیے کیا اچھا ہے کیا برا تجویز نہیں کریں گے تو کچی اور ناتجربہ کاری کی بناء پر حاصل کیا ہوا علم آپ کے بچے کی شخصی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے کھوکھلا کر دے گا۔

(317 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. Ghulam Farid khan says:

    ماشاء اللہ بہترین نصیحت آموز تحریر

تبصرہ کریں