خوبصورت کردار اور عمل

سمجھ لیں کردار آپ کا روحانی عکس ہوتا ہے جبکہ کہ عمل حالات و واقعات کے تحت کیا جانے والا ایک قولی یا جسمانی فعل ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کردار اور عمل ایک ہی چیز کا نام نہیں ہے۔

مثال سے دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ آپ اور میں نے اکثر کسی نہ کسی وجہ سے مالی مدد کی ہو گی ۔۔۔۔۔ اب آّپ کے اس عمل سے قلبی طور پر دو طرح کی کیفیات جنم لے سکتی ہیں ۔
(بخل) اوازاری و تنگ دلی و چر چراہٹ (سخاوت) خوشی و سکینت و اطمینان اب مالی مدد کرنا ایک "عمل" ہے جبکہ آپ کے اندر پیدا ہونے والی کیفیات آپ کا اصل "کردار" ہیں۔ یہ کردار آپکی اصل شخصیت ہے۔ اس مثال سے ایک کردار "سخی" جنم لیتا ہے جسکو مال دینے کے عوض روحانی خوشی و سکون حاصل ہوتا ہے اور اسکے متضاد ایک کردار "بخیل" بھی سامنے آتا ہے ۔ جس طرح جسم کے مختلف بائیولوجیکل اعضاء ہیں اسیطرح روح کے مختلف attributes ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دعا سیریز 4: (مختصر درود و سلام)

دراصل ایک خوبصورت روح یا کردار کے حامل وہ مردو عورت ہوں گے جن میں یہ خصوصیات attributes توازن کی حالت میں ہوں گی۔ جیسے عقل مند rational ہونا کردار کا ایک ایٹریبوٹ ہے جسکا مطلب ہے استدلال reasoning کرکے غلط اور صحیح کی پہچان کرنے کی صلاحیت کا استعمال۔ اب جو اس کا کم سے کم استعمال کرے گا اس میں احمقانہ پن جنم لے گا اور اپنی ذات کا یا کسی اور کا نقصان کر بیٹھے گا اور جو اسکا excess استعمال کرے گا وہ صرف اور صرف اپنی ذات کو محور بنا لے گا اور اسکے لیۓ بددیانتی و دھوکے جیسے کاموں کے لیۓ بھی دلائل ہوں گے اور عقل کا کام دلیل تلاش کر کے دینا ہے مرضی آپکی ہے کہ آپکو دلیل چاہیۓ کس مقصد کے لیۓ چاہيے۔ جب یہی عقل توازن کی حالت میں ہو گی تو حکمت wisdom کہلاتی ہے۔

اسی طرح "بہاردی" بھی کردار کی ایک خصوصیت ہے ۔۔۔۔ اگر یہ متوازن نہیں ہو گی تو انسان ڈرپوک کہلاۓ گا یا پھر وحشی و بدتمیز اور توازن کی حالت میں اسکو "باہمت courageous" کہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈی این اے - ایک حیرت کدہ

کردار کی ان خصوصیات کو توازن میں رکھنے کے لیۓ ایک قوت درکار ہوتی ہے جسے ہم سمجھ یا فہم و فراست intellect کا نام دیتے ہیں۔اسی توازن سے "عدل justice" جیسی نیکی کا ظہور ہوتا ہے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ کردار کی ان خصوصیات کی کمی یا زیادتی کے ساتھ عملی زندگی گزارنا آسان ہوتا ہے جبکہ انکو توازن میں رکھ کے جینا (خوبصورت کردار کے ساتھ) نہایت مشکل اور کھٹن ہوتا ہے بالکل جیسے تنی ہوئی رسی پر چلنا کہ ہر لمحہ توازن قائم رکھنا پڑتا ہے۔

ان خصوصیات کا متوازن نہ ہونا روحانی و قلبی طور پربیمار ہونے کی symptom ہے۔ اور اسکا علاج یہی ہوتا ہے کہ ایسے اعمال کیۓ جائیں کہ deficit کو بڑھایا جاۓ اور excessive کو کم کیا جاۓ۔ اس لحاظ سے ہر مریض کے لیۓ اسکے مرض کی شدت و نوعیت کو سامنے رکھ کر دوا تجویز کی جاتی ہے۔ مثلا اگر کسی کی مالی مدد کر کے آپ کے دل میں فراخ دلی کی بجاۓ تنگ دلی جنم لے رہی ہو تو (روحانی) فزیشن کو چاہیۓ کہ آپ کے مال خرچ کرنے کے عمل کو حد درجہ سراہے اور قابل تعریف و قابل تقلید ثابت کرے حتی کہ عمل کے مثبت پن کا شعور آپ کے دل کی تنگی (بخل) کو ۔۔۔ سکینت و اطمینان (سخاوت) میں بدل دے۔

یہ بھی پڑھیں:   آئیڈیل شخصیت یا بُت سازی

(امام غزالی کے خیالات سے مستعار)

(105 مرتبہ دیکھا گیا)

عامر مغل

عامر مغل اکاؤنٹس اور فنانس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ طبعاً وہ ایک متجسس شخصیت ہیں۔ اپنے شعبے سے الگ وہ علم دوست ہیں۔ مذہب، فلسفہ، سائنس، ٹیکنالوجی اور فنونِ لطیفہ سے شغف بھی رکھتے ہیں اور ان موضوعات پر گاہے بہ گاہے لکھتے بھی رہتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. آپ کی وساطت سے امام غزالی کے خیالات سے آگاہی حاصل ہوئی

  2. محمد اشفاق says:

    ماشاءاللہ بہت شاندار لکھا عامر بھائی, ہم لوگ عموما" کردار اور اعمال کو ایک ہی سینس میں لیتے ہیں,,بہت خوبصورت اور لطیف نکتہ ہے یہ جو آپ نے بیان فرمایا

تبصرہ کریں