کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے؟

اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا، پر سامنے لگا نام اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ صحیح جگہ آیا ہے۔ اسکے قدم اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ آگے بڑھا اور نام کے قریب پہنچ کر نڈھال سا ہو کر گر پڑا۔ یوں تو وہ ایک کامیاب شخص تھا لیکن آج وہ اپنے آپ کو ایک ہارا ہوا انسان سمجھ رہا تھا۔ ایسا انسان جس نے انا کی جنگ میں سب ہار دیا ہو. وہ چیخ چیخ کر اسے پکارنے لگا مگر ہر بار آواز واپس پلٹ آتی۔ اس کی آنکھوں سے آنسؤوں کا سیلاب رواں ہوگیا تھا۔ وہ بے اختیارسامنے پڑے گلاب کی پتیوں کے ڈھیر کو ہٹا کر دونوں ہاتھوں سے مٹی کریدنے لگا۔ اسے وہ یوں اتنی بڑی سزا دے گی یہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔

آخر اس کی غلطی کیا تھی جو اب کی بار رونا اس کا مقدر بنا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا، با وجود اسکے کہ اسے آنسؤوں سے سخت نفرت تھی۔ اس لڑکی نے اسے دھوکہ دیا جو ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ کچھ بھی ہو جائے میں کبھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔ تم جتنا دور جاؤگے میں اتنا ہی پاس آﺅں گی. جھوٹی کہیں کی!!! آج تو وہ اتنا پاس آیا تھا اسکے پھر بھی وہ پاس نہیں آرہی تھی۔ کہتی تھی کہ مجھے محبت ہے تم سے۔ وہ بھی دیوانگی کی حد تک۔ ایسے ہوا کر تی ہے کیا محبت ؟؟؟؟؟؟
ایسے کوئی کرتا ہے محبت میں کیا ؟؟؟؟
کس بات کی سزا وہ اسے دے گئی تھی جبکہ اس کی تو کوئی غلطی بھی نہ تھی۔ آخر اس کا قصور کیا تھا ؟؟؟؟
یہی نا کہ وہ اسے نظرانداز کرتا تھا۔ دن بھر میں وہ پاگل سی لڑکی اسے بیسیوں پیغامات بھیجتی تھی۔ وہ جب صبح اٹھتا تو whatsapp پر اس کے لیے صبح بخیر کا پیغام ہوتا۔ وہ آفس میں ہوتا تو اسے محبت بھرا میسج ملتا۔ پھر جب وہ گھر پہنچتا تو کچھ اور پیغامات اسکے منتظر ہوتے تھے جن میں جواب نہ دینے کے شکووں کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر سے پیار کا اظہار کیا گیا ہوتا تھا۔ پھر رات کو اسے Viber پر شب بخیر کا میسج ملتا اور وہ سکون کا سانس لیتا کہ چلو بلا ٹلی۔ وہ جب کبھی اس سے حال چال پوچھتی تو وہ جواب نہ دیتا۔ کیوں کہ وہ ایسے سوالوں کو رسمی سمجھتا تھا۔ وہ محبت میں پابند نہیں رہنا چاہتا تھا۔ وہ آزاد تھا۔ وہ یوں ہی آزاد رہنا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اس کی فکر کرے۔ اسے الجھن ہوتی تھی اس محبت سے۔ وہ دبے دبے لفظوں میں اسے کئی بار کہہ چکا تھا کہ وہ اس محبت کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔ اسے یہ محبت بوجھ لگتی ہے۔
بس اتنی سی تو بات تھی۔ اتنی سی بات پر وہ پاگل سی لڑکی منوں مٹی کے بوجھ تلے جا بیٹھی۔ بے وفا کہیں کی۔۔۔ ! کہتی تھی کہ ہمیشہ تم مجھے اپنے سائے کی طرح اپنے ساتھ پاﺅ گے آج نہ وہ تھی نہ اسکا سایہ تھا۔ آج وہ اس کے سارے سوالوں کے جواب دینا چاہتا تھا۔ سارے گلے شکوے مٹا دینا چاہتا تھا۔ مگر وہ لڑکی نخرے کر رہی تھی۔ سن ہی نہیں رہی تھی۔ جیسے کہ جنت میں حوروں کی سردار بن بیٹھی ہو۔ اس سے اب یہ سکوت برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ آخر اس کی غلطی ہی کیا تھی۔ یہی نا کہ صرف اسے نظر انداز کیا تھا۔ بس اور تو کچھ نہیں۔ یہ سوچتے ہوئے وہ بوجھل قدموں کے ساتھ قبرستان سے باہر نکلنے لگا کہ اچانک اس کے موبائل میں میسج کی مخصوص ٹون بجی۔ کسی کا میسج تھا اسنے نم آنکھوں کے ساتھ وہ میسج پڑھا ہی تھا کہ اچانک اس کی نظر اس لڑکی کے ایک پرانے میسج پر جا ٹہری۔ اس نے تو ابھی تک یہ میسج کھول کر بھی نہ دیکھا تھا۔ شاید کہ یہ اس کا آخری پیغام تھا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے وہ میسج پڑھا اور اس کی آنکھیں مزید بھیگ گئی۔ اس میں لکھا تھا کہ۔
''خاک ہو جائیں گے ہم٬تم کو خبر ہونے تک''

یہ بھی پڑھیں:   دودھ پلانے میں ماں کے مسائل

امامہ عالم

(145 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں