کل رات

آو۔۔۔۔۔!
کہ تمہیں اپنی بد گمانیوں کا تدارک ملے۔۔
اے میرے آس پاس رہنے والے۔۔۔!
اے۔۔۔۔! اس دنیا کے واحد فرد جو میری رگِ جاں میں گونج رہا ہے۔ آبھی جا کہ میری آواز اس عروج کو پالے کہ تیرے کانوں کے پردوں پر اپنا وجود محسوس کرلے۔۔
کل رات میرے ہونے کو ایک بھونچال نے شک میں ڈال دیا تھا۔ کل کی شب مجھ پر پھر قیامت گزری تھی۔ شاید تم یہ راز پاچکے ہو کہ تمہارا شاد زلزلے کی وہ سوئی ہے جو تبھی حرکت میں آتا ہے جب زلزلے اس کو لرزادے۔۔۔
سنو تم خواہاں ہو اس بات کی کہ میں اپنے جنون کی وہ شدتیں جو اب میری معمول کی حالت بن چکیں ہیں ۔۔۔وہی شدتیں بروئے کار لاتے ہوئے تمہیں روکوں۔۔۔۔تو میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں ۔۔۔تمہارے افسوس کا دکھ مجھے رہے گا ۔۔۔لیکن جھوٹ بول کر مسرت میسر کرنے سے بہتر ہے سچ سے تمہیں چھلنی کردوں۔
ایسا کرنا میرے اختیار کا باجگزار نہیں ہے۔۔
تم اس سے پہلے بھی کئی بار میرے تلووں کے نیچے ایسی کانٹوں کی فصل بوچکی ہو جن کی چبھن اب بھی میری ایڑھیوں اور قدموں کی مکین ہے۔
تم نے ہر ماہ کی تاریک راتوں کو اپنے ہنسی کی کھنک سے اول اول تو اجالا اور آخر آخر مجھےَ، اپنے شاد کو یہ کہ کر کہ"شاد میں پلٹ رہی ہوں ۔کبھی واپس نہ آنے کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔" ان تاریک راتوں کا مستقل رہائشی بنانے کی حکمت عملی وضع کی۔۔
تم اس سے پہلے بھی ہمیشہ کیلئے جانے کا کہہ کر مجھے ایک بے طرح کے ناقابل بیان المیہ سے متعارف کرواچکی ہو۔
سنو اب تم چلے ہی جاو۔۔۔اب میں تمہیں نہیں روکونگا ۔اب میں خود میں وہ سکت نہیں پاتا کہ ٹہرنے کو تمہارا دوسرا روپ بنا سکوں۔
مجھ پر یہ قیامت کچھ آج کی شب ہی نہیں ٹوٹی۔بارہا یوں ہوا کہ مجھے پنکھڑی پنکھڑی پتیوں نے،تیری اور تم سے پہلے والیوں کی ہمہ رنگ آواز کی تتلیوں نے تھپک تھپک کر سلایا اور میری آنکھ جدائی کے قہر رنگ خلاوں میں کھلی۔۔
مجھے تب پھوٹ پھوٹ کر رونا تھا لیکن افسوس میں رویا نہیں تب مجھ سے ایک غلطی ہوئی تھی ۔میں نے صبر کے تیل سے بے اعتنائی کی تاریکیوں میں چراغ جلائے تھے۔ سو اب میں صبر کا ہر قطرہ گنواکر تیرے قدموں میں ایک لٹے ہوئے فقیر،ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح بیٹھا ہوں۔۔اب نہ میرے پاس لفظ کی پونجی ہے کہ تیری نذر کروں۔نہ صبر کی پوٹلی کہ سنسان راہوں کا توشہ بناسکوں۔
سنو تم چلی جاو۔۔کبھی نہ واپس آنے کیلئے ۔۔۔۔
اور اگر تمہارا ارادہ بدلے۔اگر تم رحم کے کسی بھی ذرے کی مالک ہو اور تم رکنا چاہتی ہو۔۔۔۔تو اب اپنی شانِ محبوبیت کی لاج رکھ لو ۔مجھے یہ جاننے کا حق دو کہ میں اس کوچے سے شناسا ہورہوں جو تیرے رخِ روشن کی صباحت کی خیرہ کن کرنوں کا سہن کررہا ہے۔
اور ہاں اس گمان کو اپنے دل کا مہمان مت بننے دینا کہ شاد کسی اور کا ہوسکتا ہے ۔سنو میری جوانی ڈھل چکی ہے۔اور ڈھلکتی عمروں کی محبتیں ،متانت کی محبتیں ہوا کرتیں ہیں۔ایسی محبتیں ہونے سے پہلے اپنے دوام ،اپنے استمرار کا سامان کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مبالغہ آرائی کی حد بندی

(84 مرتبہ دیکھا گیا)

شاد مردانوی

جنابِ شاد کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ وہ چلتی پھرتی لغت ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان کی اردو در اصل اردو نہیں بلکہ معرب و مفرس کسی ماورائے اردو شئے کی تارید کہی جاسکتی ہے۔ علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ منکسر المزاج بھی ہیں اور مطالعے کو اوڑھنا بچھونا رکھتے ہیں۔ ان کی ہنر کاری ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں