کن فیکون اور تخلیقِ عالم

تخلیقِ عالم، مخلوق وما فیہا اور کن فیکون کے حوالے سے بہت سے سوالات مختلف مواقع پر مجھے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ سوالات کی نوعیت سائنسی بھی ہوتی ہے، فلسفیانہ بھی اور کلامی بھی۔ بنیادی سوال در حقیقت تخلیق اور تکوین کے اختلاف سے ابھرتا ہے۔ کن کا معنی۔ فیکون کی زمانی و مکانی تشریح جیسا کہ علما کی طرف سے کی گئی ہے۔ پھر خدا کا دنیا کو چھ ایام میں پیدا کرنا۔ اور اس طرح کے کئی سوالات۔
خدا کو دنیا بنانے میں چھ ایام یا ادوار کیوں لگے؟ کیا کُن کہہ کر یک لخت تخلیق ممکن نہیں تھی؟ پھر اتنا عرصہ کیوں لگا؟
عرض کیا کہ خالق سے یہ سوال کرنا اول تو غیر منطقی ہے کہ اسے اپنی تخلیق مکمل کرنے میں فلاں وقت کیوں لگا؟ اس کا سیدھا سا جواب یہی ہے کہ "اس کی مرضی!!"۔ عام ذہن کے اکثر سوالات جو الہیات کے متعلق ہوتے ہیں ان میں منطقی بے گانگی کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ایک ہستی پر ہم جو جو صفات فرض کرتے ہیں اس پر اعتراضات یا سوالات بھی انہی صفات کو زیر غور رکھ کر کیے جاسکتے ہیں۔ ایسے میں ایک تخلیق کار سے یہ پوچھنا کہ اس نے فلاں چیز ایسے کیوں بنائی؟ ویسے کیوں نہ بنائی؟ یا کائنات کو مادی کیوں بنایاَ؟ غیر مادی کیوں نہیں؟ پھر اسے ان قوانین کا پابند کیوں بنایا؟ اس قسم کے سوالات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کسی ویب سائٹ کے ڈویلپر سے آپ یہ سوال کریں کہ آپ نے اس کا نیویگیشن بار ہوریزونٹل ہی کیوں رکھا ورٹیکل کیوں نہیں؟ اس کا رنگ نیلا ہی کیوں رکھا پیلا کیوں نہیں؟ کانٹینٹ کی پیڈنگ سائیڈ بار سے اتنی کم کیوں ہے؟ زیادہ کیوں نہیں؟ ان سارے سوالوں کا سب سے بہتر جواب یہی ہے کہ "تخلیق کار کی مرضی! وہ جیسے چاہے تخلیق کرے۔ اس پر کوئی سوال اٹھانا بے معنی ہے۔"
دوسرے درجے پر فلسفیانہ مباحث کا آغاز ہوتا ہے۔ یہاں تخلیق اور تکوین کا فرق زیرِ بحث آئے گا۔ ایک چیز کو خدا نے تخلیق کیا ہے۔ اس کے لیے طریقۂ کار کیا ہے؟ یہ طریقۂ تخلیق در اصل تکوین ہے۔ شروعات سے لے ارتقا کے جو جو منازل طے کرکے دنیا وجود میں آئی ہے یہ تخلیقِ عالم کے مراحل ہیں۔ "کن" کوئی جادو نہیں ہے جسے ادا کیا گیا اور کائنات معرض وجود میں آئی۔ بلکہ یہ ایک ایسا امر ہے جس سے تخلیق کی شروعات ہوتی ہے اور عالم درجہ بدرجہ ترقی کرکے حصولِ غایت کی منازل طے کرتا ہوا وجود پذیر ہوتا رہتا ہے۔ یہی تکوین ہے۔ فیکون سے مراد یہی مراحل ہیں۔ یہ صرف "ہوجانے" کا نہیں بلکہ "ہوتے رہنے" کا نام ہے۔ چنانچہ اِس سے یہ سارے سوالات اپنے آپ ہی حل ہوجاتے ہیں کہ کس چیز کی تخلیق میں کتنا وقت لگا اور کیوں لگا۔ اسے زمانی اور مکانی تشریح میں قید کیا ہی نہیں جاسکتا۔ کیونکہ زمانہ خود اضافی حالت میں تجربے کا حصہ بنتا ہے۔ چھ ایام چھ کروڑ سال بھی ہوسکتے ہیں۔ اور ایک سیکنڈ کا کوئی کروڑواں حصہ بھی۔ لیکن یہ سارے حالات اس نظامِ تخلیق کی تحت وجود میں آتے ہیں جو اس غایتِ کاملہ کے حصول کے لیے بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نسبت کا فرق

(480 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں