کیا خدا ہر کام پر قادر ہے ؟

سوال:

اگر خدا ہر کام پر قادر ہے تو کیا وہ ایسا پتھر یا چٹان تخلیق کرسکتا ہے جسے وہ خود نا اُٹھا سکے؟

جواب:

بہت سے لوگوں کے نزدیک اس قسم کے سوالات دراصل منطقی مغالطوں پر مبنی ہیں، یعنی خُداکےبارے میں اس طرح کا سوال ہی غیر منطقی یا illogical ہے،جودرحقیقت ملحد فلاسفہ کی کنفیوژڈ ذہنیت اور فلسفیانہ موشگافی کی ایک ادنیٰ مثال ہے۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجے کہ خُدا کی تمام ترصفات چونکہ لامحدود ہیں اور اس ''لامحدودیت'' یا Infinity کی کوئی حد نہیں ہے،چنانچہ ربِّ زوالجلال کی لامحدود صفات کو مکمل طورپرسمجھنے اور ان صفات کے مابین ربط اور Coherence یعنی ہم آہنگی کی مکمل آگہی حاصل کرنے کے لیے لامحدود علم اور لامحدود عمر درکار ہے۔

صدیوں سےجاری علمی سفر سے حاصل کردہ نتائج اور تجربہ اپنی تمام تر عظمت کے باوجود خُدا کی قدرت و طاقت اور اسکی لازوال صفات کی لامحدودیت کو ماپنے کے لیے انتہائی ناقص اور نامکمل ہے۔

بات دراصل یہ ہے کہ ہم خُدا کو اسکی صفات سے پہچانتے ہیں، جن میں سے ایک صفت قادر مطلق بھی ہے، یعنی یہ کہ وہ ہرچیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے، اس بات کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ وہ ہرکام کو انجام دینے کی مکمل قدرت رکھتا ہے، اور کوئی بھی کام ایسا نہیں کہ جو اُسکی قدرت یا صلاحیت سے ماورا ہو۔

ہم خُدا کے بارے میں ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ وہ لامحدود صلاحیتوں اور قدرتوں کا مالک ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   آپ کے دماغ کی بہتری کیسے ممکن ہے ؟

کیونکہ انسانی ذہن اور خُدا سے متعلق اس کا وجدانی شعور کسی ایسی ہستی کو خُدا تسلیم نہیں کرسکتا جس کی قدرت یا صلاحیت محدود ہو، یعنی انسانی عقل و شعور خُدا کےبارے میں اس توجیح پر مطمئن نہیں ہوتا کہ وہ اپنی قدرت اور صلاحیت کےاعتبار سے کوئی محدود ہستی ہو، چنانچہ خُدا ایک لامحدود ذات اور اسکی تمام ترصفات بھی لامحدود یعنی unlimited/infinite ہیں۔

لہٰذاہ وہ خُدا کا علم ہو، یا اسکی تخلیقی صلاحیت، وہ اسکی قدرت ہو یا اسکی حکمت و دانائی، وہ اسکی رحمت ہو یا غیض و غضب، حُسن و رعنائی ہو یا جلال و سطوط ہر صفت اپنے آپ میں کامل اور لامحدود ہے۔ تاہم ان تمام ترصفات میں جو بات سب سے زیادہ اہم ہے اور آپ کے سوال کے اعتبار سے کلیدی اہمیت کی حامل وہ یہ ہےکہ خُدا کی ہرصفت دوسری تمام صفات کے ساتھ مربوط اور ہم آہنگ بھی ہے۔

یعنی خُدا کی ہرصفت جیسے، وہ حکیم و دانا ہے، علیم و خبیر ہے، رحمٰن و رحیم ہے، عدل و انصاف کرنے والا، اپنی مخلوقات کی مکمل خبرگیری
کرنے والا ہے ، ہرکام کی بہترین تدبیر کرنے والا ، مخلوقات کو رزق پنہنچانے والا وغیرہ ، اور اسطرح کی ان گنت و بےشمار صفات ،
ناصرف یہ کہ لامحدود اور کامل ہیں بلکہ تمام تر صفات آپس میں باہم مربوط اور ہم آہنگ Coherent بھی ہیں۔

یعنی یہ کہ آپ کسی ایک صفت کودوسری تمام صفات سے علیحدہ نہیں کرسکتے۔
اس کےلیے مثال سے سمجھیے۔

یہ بھی پڑھیں:   مبالغہ آرائی کی حد بندی

ایک سوال ہے، کیا خُدا تمام نیکوکاروں کو جہنم میں ڈال سکتا ہے؟
یا: خُدا تو ہمیشہ ہی سچ بولتا ہے، لیکن کیا خُدا جھوٹ بھی بول سکتا ہے؟

آپ پہلےسوال کا ممکنہ جواب یہی دیں گے کہ جی ہاں ! خُدا اگر چاہے تو نیکوکاروں کو جہنم میں ڈال سکتا ہے، یہ اُسکی قدرت ہے، لیکن وہ ایسا اس لیے نہیں کرسکتا کیونکہ وہ عادل ہے، وہ انصاف فرمانے والا اور نیکی و خیر کو پسند کرنے والا ہے لہٰذاہ وہ نیک لوگوں کو جہنم میں نہیں ڈال سکتا، کیونکہ یہ اسکی صفت عدل اور انصاف کے خلاف ہے۔

اسی طرح خُدا ہرگزہرگز جھوٹ نہیں بول سکتا، کیونکہ جھوٹ بولنا ایک اخلاقی عیب ہے، اور خُدا ہرعیب سے پاک ہے۔

یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ خُدا ہرکام کو کرنے کی مکمل قدرت اور صلاحیت رکھتا ہے، لیکن وہ ایسا کوئی کام نہیں کرتا جو اسکی دوسری صفات سے متصادم ہو،تمام صفات کا باہم مربوط اور ہم آہنگ ہونا ہی تو اس کی خُدائی شان کے مطابق بھی ہے، کیونکہ صفات کا باہم مربوط نا ہونا درحقیقت ایک نقص ہے، اور خُدا ہر نقص ہر عیب سے پاک ہے۔

چنانچہ یہ سوال کہ آیا خُدا ایک ایسا پتھر تخلیق کرسکتا ہےجو وہ خود نا اٹھا سکے۔
کو دوسرے الفاظ میں اسطرح سے بھی کہاجاسکتا ہے کہ کیاخُدااپنی تخلیقی صلاحیت کو محدود کرسکتا ہے؟ یا کیا خُدا ایسی کوئی چیز تخلیق کرسکتا ہے جس پر خود اس کا کوئی کنٹرول نا ہو؟

یہ بھی پڑھیں:   سائنس کی حتمیت

اسی طرح مزید سوالات پیدا ہوسکتے ہیں، جو دراصل Tomfoolery یا لغویات کے زمرے میں آتے ہیں،
مثال کےطور پر خُدا اگر ہر چیز پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو کیا وہ اپنے ہی جیسا کوئی دوسرا خُدا تخلیق کرسکتا ہے؟
یا
اگر خُدا ہرچیزپرقدرت رکھتاہے، تو کیا وہ اس بات پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ خُود اپنے آپ کوقتل کردے؟ یعنی کیا وہ خودکشی کرسکتاہے؟

یہ اور اس طرح کے تمام سوالات آج سے نہیں بلکہ صدیوں سے فلاسفہ کے ہاں زیربحث رہے ہیں جن کے جوابات اٹکل پچو اور گمانوں کی بنیاد پر دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

ہماری رائے میں اس قسم کے سوالات کا ایک ہی جواب ہے کہ خُدا ہرکام کو کرنے کی مکمل قدرت اور صلاحیت رکھتا ہے، لیکن وہ ایسا کوئی کام نہیں کرتا جو اسکی دوسری صفات سے متصادم ہو۔

(491 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں