کیا یادوں کو ختم کرنا ممکن ہے؟

ایک شعر ہے۔

؎

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب!
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

گو کہ اس شعر کو غالب سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن یہ ایسا شعر ہے جو در حقیقت اپنے خالق کو پیچھے چھوڑ گیا۔ جو کہ اختر انصاریؔ تھے۔

بہر حال اس شعر سے اگر شاعر کی کیفیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے اور چشمِ تخیل سے دیکھا جائے تو واقعتاً یہ لگتا ہے کہ وہ شدید کرب و بے چارگی (Depression) کی کیفیت میں رہے ہونگے۔ ان کا دماغ کس حد تک منفی سوچنے لگا ہوگا۔ ماضی کا ہر ایک واقعہ، اور اس واقعے سے نکلنے والے، یاد آنے والے، دماغ میں ہلچل کردینے والے دیگر سیکڑوں واقعات جو کرب در کرب کا سبب بنتے ہونگے۔ ذہن اپنی بے ہنگمی اور بے ترتیبی (attention deficit) کا نوحہ پڑھتا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   خوبصورت کردار اور عمل

اختر انصاری نے نجانے کتنے ٹوٹکے، کتنے ہی جتن کیے ہونگے کہ انکے ذہن میں پک پک کر پھٹا جانے والا وہ غبار (hyperactivity) کا کوئی مداوا، کوئی علاج ہو سکتا۔

لیکن حیف! ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکا۔ اور وجہ یہی تھی کہ ایک تو اختر انصاری کے دورِ شباب تک اس اضمحلال اور ہیجان کی ان کرب ناک حالتوں کا کوئی قابلِ ذکر علاج نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ وہ طبعاً بھی کلاسیکیت کی طرف مائل تھے۔

چنانچہ علاج ڈھونڈنے سے بہتر انہوں نے یہ سمجھا کہ جن یادوں کے سبب یہ سب کچھ ہو رہا ہے کیوں نہ ان سے چھٹکارا پانے کا مطالبہ اس چرخِ آبنوسی کے حضور رکھ دیا جائے؟

یہ بھی پڑھیں:   احساس کمتری

تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔

تاہم یہ جان لینا چاہیے کہ بری سے بری یاد، تلخ سے تلخ تجربات کے بعد بھی لوگ ہنسی خوشی جیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ تھوڑی سی پریشانی ہی سے گھبرا کر مایوسی کے آخری دروازے پر جا کھڑے ہوتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ کاش انکا حافظہ ختم ہو جائے تو یہ مشکل لمحے یا اداس کن حقیقتیں انہیں کبھی یاد ہی نہ آئیں۔

خلاصہ یہ ہوا کہ وہ درحقیقت ان تجربات اور ان یادوں سے پریشان نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ ان تجربات کی منفی تشکیلات (processing) سے نالاں ہوتے ہیں جو تھمنے کا نام نہیں لیتی۔

چنانچہ ایسے کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے یادِ ماضی کو مٹانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اور ممکن بھی نہیں ہے۔ صرف دماغ کے سوچنے کے زاویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اور جدید طب میں اب اتنا تو ہم جان ہی چکے ہیں کہ ایسا کرنا نہ صرف یہ کہ ممکن ہے، بلکہ روز بروز ہزاروں عشق زدگان، اور خرد باختگان کامیاب علاج کروا کر ایک صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ کے دماغ کی بہتری کیسے ممکن ہے ؟

(101 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں