گردشِ دوراں کی چائے

میں چائے کے معاملے میں ہمیشہ سے حساس طبیعت واقع ہوا ہوں۔
اب آپ پوچھیں گے کہ کوئی ایسا معاملہ بھی ہے جس کے حوالے سے میری طبیعت حساس نہ ہو؟ لیکن اس سوال کا میرے پاس کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ہے۔
عالم یہ ہے کہ اپنے گھر میں ہوں تو چائے خود بناتا ہوں اور کسی دوسرے گھر میں اگر پینی پڑ جائے تو گمان یہی رہتا ہے کہ آج پھر سے چائے کو پینے کی بجائے ضائع ہی کرنا پڑے گا۔ یہ ضائع کرنا بھی انہی معنوں میں ہے جس طرح ایک ناتجربہ کار سگریٹ نوش کسی سگریٹ کو ناک اور منہ سے صرف دھوئیں خارج کرکے ضائع کرتا ہے۔ اسی طرح مجھے بھی چائے پینے کی بجائے منہ میں انڈیل کر ضائع کرنی پڑتی ہے۔ پھر چائے تو چائے ہے۔ اور میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ جو چائے پینا نہیں جانتا وہ بنانے کا اہل بھی نہیں ہے۔ پینے کے لیے بھی ایک خاص جمالیاتی حس درکار ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔
گاڑھے دودھ اور معتدل یا کچھ زیادہ پتی سے بنائی گئی چائے کی ایک خاصیت یہ ہے کہ عموماً پتی کی کڑواہٹ دودھ کی شیرینی سے مل کر ایک سماں باندھ دیتی ہے جس کا حقیقی لطف اہلِ ذوق ہی اٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ اس میں لگاؤ اور آشنائی کی صفت بدرجہا زائد موجود ہوتی ہے اور اس کا احساس زبان پر کافی دیر تک محسوس ہوتا رہتا ہے۔ ایسی ہی چائے ایک زمانے سے پیتے پیتے کچھ تلخیاں اور کچھ حلاوتیں خون میں اس طرح رچ بس گئی ہیں کہ جن کے مرکب نے دل میں ایک ”میٹھا سا درد“ ٹھہرا دیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ جو لوگ زندگی میں صرف خوشیوں کے طلبگار ہیں وہ بھلا کس قدر بد ذوق ہیں یا پھر بے حس ہیں جو زندگی میں اس ہلکے سے کسیلے پن کے لطف اٹھانے کی جرات سے بھی محروم ہیں۔ وہ شاید نہیں جانتے کہ خوش ذائقگی در حقیقت حلاوت اور بے نمکی، حرکت اور سکون، احساس اور بے حسی، نزاکت اور بے باکی وغیرہ میں درمیان کی کیفیت کا نام ہے۔
ابھی دو سال پہلے تک کی بات ہے کہ روز رات کو دس بجے سے کوئی ایک یا ڈیڑھ بجے تک تایا کی چائے کی دکان پر ہمارا ڈیرا ڈنڈا ہوا کرتا۔ وہاں کی چائے اپنے مزاج سے ایسے میل کھا گئی تھی جیسے اپنے ہی ہاتھ کی بنی ہوئی ہو۔ ان تین چار گھنٹوں میں دوستوں کے بیچ کئی موضوعات زیر گفتگو آتے، کئی شخصیات کو لتاڑا جاتا، کئی مسالک پر بحث ہوتی۔ دوستوں میں تین تو ایسے تھے جن کی بیٹھک مستقل ہوتی اور باقی سب اپنی دلچسپی سے آکر بیٹھ گئے اور اٹھ کر چلے گئے (Visiting Faculty)۔ البتہ تایا کے بعد وہ چائے پھر نصیب نہیں ہوئی، اور نہ وہ بزم آرائیاں ہی میسر آسکیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک کم از کم کراچی میں تو شاید ہر علاقے میں ایک چائے کا ہوٹل ضرور ایسا ہوتا تھا جہاں آپ کو سیاست سے لے کر فلسفہ، شاعری سے نثر نگاری، مذہب سے الحاد، مدرسے سے سکول اور کالج، اشرف علی تھانوی سے احمد رضا بریلوی، ڈیکارٹ سے رسل اور لینن، غزالی سے رازی اور اقبال، غالب سے وصی شاہ اور امریکا سے روس تک کے ہر موضوع پر بات کرنے والا چند لوگوں کا حلقہ مل جانا کوئی مشکل بات نہ ہوتی۔ لیکن یہ سلسلہ بھی اب گردشِ دوراں کے ہاتھوں ختم ہوتا چلا گیا۔ ان ہوٹلوں پر بیٹھ کر جو تخلیق کار اس جہان خراب سے وابستہ دور اندیش باتوں کی راز جوئی میں لگے ایک ہاتھ میں چائے کا مگ، دوسرے میں سگریٹ پکڑے مصروف ہوتے تھے وہ اب ملتے کہاں ہیں؟ مجھے تو یہی سمجھ میں آیا ہے کہ یہ بے برکتی کا نتیجہ ہے۔
لیکن کیسی بے برکتی؟
ارے میاں سمجھنے والی بات ہے۔ چائے جن ہاتھوں سے بنتی ہے ان ہاتھوں میں وہ کیفیتیں کہاں رہی ہیں جو پہلے تھیں؟ پہلے جو لوگ چائے بناتے تھے وہ اس کے ذائقہ شناس بھی اسی طور تھے جو تخلیقی عمل کو ابھارنے کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے کافین (Caffeine) کے اثرات بھی اسی طور کام دکھایا کرتے تھے۔ گولڈ لیف کا پاکیٹ جس پر سالہا سال سے چھیانوے روپے قیمت چھپ کر آرہی ہے، ایک سو بیس سے روپے سے کم کا کہیں رہا ہے کیا؟ اب بتاؤ بے برکتی ہوگی یا نہیں؟ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن جذبات سے ہندوستانیوں اور اردو بولنے والوں یا پھر پنجابیوں نے چائے کے حوالے سے خدمت انجام دی ہے یہ کام پٹھان نہیں کرسکا۔ پٹھان نے ہوٹل کی چائے کی مخصوص نفاست مزاجی اور روایتی معیار میں بھی رخنہ اندازی کی ہے۔ لیکن کیا کہیے کہ اگر اس منصب کو صحیح وقت پر پٹھان نہ سنبھالتا تو شاید یہ ہوٹل کی چائے خال خال ہی دیکھنے کو نصیب ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:   لسی - ہر پریشانی کا حل

(78 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں