گرمی دانے اور گھریلو ٹوٹکے

موسم میں تبدیلی ہر ایک کے لیے مختلف اہمیت رکھتی ہے۔ کچھ لوگ سردیوں سے گھبراتے ہیں اور گرمیوں کو پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ گرمیوں سے گھبراتے ہیں اور سردیوں کو پسند کرتے ہیں۔ یہ سب آپ کے جسم کی فزیولوجی (فعلیات) پر منحصر ہیں کہ کونسا موسم اور کونسے حالات آپ کے لیے زیادہ خوشی کا باعث ہو سکتے ہیں۔  گرمیوں کے موسم میں کچھ لوگ بہت زیادہ چست اور توانا محسوس کرتے ہیں لیکن یہی گرمیاں آپ کے لیے عذابِ جان بھی بن سکتی ہیں اگر آپ کے جسم پر گرمی دانے بھر جاتے ہوں۔
گرمی دانوں میں جسم کے مختلف حصوں میں پسینہ نکالنے والے غدود بند ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے جلد کے اندرونی حصے میں پسینہ جمع ہو جاتا ہے اور یوں جلد کے میں لال نشانات اور دانے وغیرہ ابھر آتے ہیں۔
گرمی دانے خارش، جلن اور چبھن اور بے چینی کی وجہ سے آپ کی روز مرہ کی مشغولیات میں غیر معمولی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
عام طور پر گرمی دانے موسم کے بدلنے پر خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ آپ درجِ ذیل کچھ گھریلو تراکیب استعمال کرکے گرمی دانوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   چکن پاکس - احتیاطی تدابیر

ٹھنڈا پانی اور برف

برف کے کچھ کیوب ایک باریک کپڑے میں باندھ کر جسم میں گرمی دانے والے حصوں پر پانچ پانچ منٹ کے لیے دن تین بار رکھیں۔ اس سے گرمی دانوں کی جلن اور چبھن کا احساس کافی کم ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ کپڑے کو ٹھنڈے پانی سے گیلا کرکے بھی یہی عمل کیا جاسکتا ہے۔  یا پھر اتنا ٹھنڈا پانی جو کہ جسم پر ٹھنڈک کا احساس دے، اس سے دن میں دو بار نہائیں، تاکہ پسینے کے اثرات جلد پر سے زائل ہوتے رہیں۔

جو کا آٹا

جو کا آٹا  گرمی دانوں اور سوزش کے علاج کے لیے مشہور ہے۔ آپ کو کرنا صرف یہ ہے کہ ایک کپ جو کا آٹا نہانے کی بالٹی یا باتھ ٹب میں اچھی طرح گھول لیں۔
اگر باتھ ٹب ہو تو بیس پچیس منٹ اس میں اپنے جسم کو تر رکھیں۔ اور اگر بالٹی ہے تو ایک نرم تولیہ بالٹی میں بھگو کر جسم پر رکھیں۔ یہ عمل دن میں دو بار ایک ہفتے تک جاری رکھیں۔

کھانے کا سوڈا

کھانے کا سوڈا بھی گرمی دانوں کے لیے بہت مفید دیکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جلد سے فاضل مادوں، دھول، مٹی اور مردہ خلیوں کو ہٹا دیتا ہے۔ جس کے سبب گرمی دانوں میں خارش اور جلن سے راحت ملتی ہے۔
طریقہ بہت آسان سا ہے۔
ایک پاؤ والے مگ میں ایک چمچ کھانے کا سوڈا لیں، اور اس میں ٹھڈا پانی ڈال کر مگ کو بھر دیں۔
ایک سوتی کپڑا لے کر اسے پانی سے تر کرکے ہلکا سا نچوڑ لیں تاکہ کپڑے سے پانی چھلکنا بند ہو جائے۔
یہ تر کپڑا اب گرمی دانوں والے حصوں پر پانچ پانچ منٹ تک رکھیں۔
یہ عمل دن میں تین یا چار بار دہرائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دماغی یکسوئی کیسے حاصل ہو؟

ملتانی مٹی

ملتانی مٹی گرمیوں میں جلد کی خارش اور پسینوں سے ہونے والی جلن اور سوزش میں فائدہ مند ہے۔
پسی ہوئی ملتانی مٹی کو حسبِ ضرورت پانی لے کر ایک گاڑھا پیسٹ بنا لیں اور اسے دانوں والے حصوں پر لگا کر خشک ہونے دیں۔ خشک ہونے کے بعد سادے پانی سے اچی طرح دھو لیں۔

نیم کے پتے

نیم کے ایک دو نہیں بلکہ دسیوں طبی فوائد ہیں جس میں پیٹ کی مختلف بیماریوں سے لے کر السر اور سوزش وغیر شامل ہیں۔
گرمی دانوں کے لیے نیم کے تازہ اور ہرے پتوں کو حسبِ ضرورت لے کر ہاون دستے میں پیس لیں۔ پیسنے کی صورت میں پتوں کے اندرونی پانی سے خود بخود پیسٹ بن جائے گا۔ اگر ایسا نہ ہو تو تھوڑا سا پانی بعد میں ڈال لیں۔
اس پیسٹ کو جلد کے متاثرہ حصوں پر لگائیں اور خشک ہونے دیں۔
خشک ہونے کے بعد پانی سے دھو لیں۔
یہی عمل دن میں ایک بار اور ایک ہفتے جاری رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امیر خسرو کی غزل کا منظوم اردو ترجمہ

گرمی دانے : کچھ مزید احتیاطی تدابیر

  • جتنا ہو سکے دھوپ سے بچیں۔
  • اگر ائیر کنڈیشن کی سہولت ہو تو استعمال کریں۔
  • جسم کو پسینہ آنے کے آنے کے کے مواقع کم سے کم فراہم کریں۔ کوشش کریں کہ پسینہ نہ آئے۔
  • ٹھنڈے پانی سے دن میں کم سے کم دو یا تین بار نہائیں۔
  • پانی زیادہ سے زیادہ پئیں۔
  • ایسی کریم یا کاسمیٹکس استعمال نہ کریں جس سے جسم کے مسام بند ہو جائیں۔
  • رات کو ٹھنڈی اور کھلی جگہ میں سوئیں۔

(1104 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں