مہلک ترین گناہ اور سوشل میڈیا

گناہ وہ اعمال ہیں جو آپ کے نفس کو آلودہ کردیں یا آپ کی روحانی ترقی پر روک لگا دیں۔ حضرت نواس بن سمعانؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ’’نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جوتمہارے دل میں کھٹکے اور لوگوں کو اس کی اطلاع ہونا تجھے اچھا نہ لگے‘‘۔
اسی طرح وابصہ بن معبدؓ نے کہا کہ ’’میں نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپﷺ نے فرمایا ’’تم نیکی کے بارے میں پوچھنے کے لیے آئے ہو؟“ میں نے کہا ’’جی ہاں!‘‘ اس پر آپﷺ نے فرمایا ’’ اپنے دل سے فتویٰ پوچھ، نیکی وہ ہے جس پر نفس(من) میں اطمینان ہو اور اس پر دل مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور سینے میں بے چینی ہو اگرچہ (مفتی) لوگ تجھے (اس کے لیے جائز ہونے کا) فتویٰ دے دیں۔‘‘

یوں تو ہر گناہ سے پرہیز لازم ہے اور ہر گناہ ہی ہلاکت ہے مگر سوچتا ہوں کہ کم از کم ان مہلک ترین گناہوں سے خود کو کوسوں دور رکھوں۔

شرک

قران مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”بے شک اللہ یہ گناہ ہرگز نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور وہ اس کے سوا جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، تو وہ یقینا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ہے۔“ (٤:١١٦)

یہاں یہ احتیاط لازم ہے کہ شرک کی بہت سی اقسام ہیں جیسے شرک خفی اور شرک جلی۔ اسی اعتبار سے ان کی شدت میں بھی فرق ہے۔ دانا انسان شرک کے معمولی امکان سے بھی میلوں دور رہنے کی کاوش کرتا ہے۔ ذرا اس حدیث کو آنکھیں کھول کر دیکھیں۔

حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا۔“
مسند احمد ۔ج ۴، ص۱۲۵

یعنی کوئی عمل جو بظاھر دینی ہو مگر کرنے والے کی نیت دکھاوے کی ہو تو یہ شرک کی ہی ایک قسم ہے۔ اس لحاظ سے ہر وہ دینی پوسٹ جو ہم فیس بک پر یا کسی اور پلیٹ فارم پر شیئر کرتے ہیں، اگر اسکے پیچھے نیٹ دکھاوے اور اپنی واہ واہ کی ہے تو یہ ازخود شرک خفی کا ارتکاب ہے۔

منافقت

منافقت ایک ایسی روحانی بیماری ہے جو جونک کی طرح اپنے شکار کو پکڑے رکھتی ہے اور اس کی آخرت مکمل طور پر تباہ کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن ہمیشہ اپنا جائزہ لیتا رہتا ہے کہ اس میں شعوری یا غیرشعوری نفاق تو موجود نہیں؟ یہی حقیقت ہے جسے حضرت حسن بصریؒ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’نفاق کا خوف مومن ہی کو ہوتا ہے، اور نفاق سے بے خوف تو منافق ہی رہتا ہے۔‘‘

قران و حدیث دونوں کے مطابق منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہونگے۔ اس آیت کو پڑھیں:
”یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو اُن کا مدد گار نہ پاؤ گے“
(٤:١٤٣)

یعنی ابوجہل جیسے مشرکین سے بھی نیچے کا درجہ منافقین کیلئے ہے۔ سوشل میڈیا پر مجھ سمیت تمام لکھاریوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ خدا نخواستہ ایسا تو نہیں کہ ہماری تحریر تو تقویٰ سے دھلی ہو مگر ہمارا کردار منافقت سے تعفن زدہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   علم میراث - دوسرا سبق

فتنہ و فساد

کسی انسان کو قتل کرنا اسلام میں ایک کریہہ ترین جرم ہے اور ایسا کرنا پوری انسانیت کو قتل کردینے کے مترادف ہے مگر قران حکیم کی رو سے فتنہ و فساد میں معاونت کرنا قتل سے بھی کہیں زیادہ بڑا جرم ہے۔ ملاحظہ ہو:

”آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑائی کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دو اس میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے اور الله کے راستہ سے روکنا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس میں سے نکالنا الله کے نزدیک اس سے بڑا گناہ ہے اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی بڑا جرم ہے اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر ان کا بس چلےاور جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے پھر کافر ہی مرجائے پس یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے عمل دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے اور وہی دوزخی ہیں جو اسی میں ہمیشہ رہیں گے“
(٢:٢١٧)

یہ فتنہ و فساد کے شوقین انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی بکثرت پائے جاتے ہیں جو کبھی مذہبی منافرت کے نام پر اور کبھی سیاسی عصبیت کے نام پر فتنہ و فساد برپا کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے احباب کی کوئی کمی نہیں جن کی فیس بک وال کسی مخصوص فرقہ یا مسلک کی پذیرائی اور دوسرے فرقہ یا مسلک کی تحقیر سے بھری ہوتی ہے۔

حقوق العباد

گنہگارکو کم از کم اپنے رب کے رحم کی قوی امید رہتی ہے۔ مگر حقوق العباد میں کوتاہی کا مطلب یہ ہے کہ اب معاملہ صرف الله سے نہیں بلکہ اس شخص سے بھی ہے جس کا آپ نے حق سلب کیا ہے۔ ظاہر ہے روز قیامت یہ توقع خام خیالی سے زیادہ نہیں کہ کوئی اپنا حق بناء قیمت لئے چھوڑ دے گا اور وہاں قیمت نیکیاں ہی ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے”آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس اور دیوالیہ وہ ہے جو قیامت کے دن اپنی نماز،روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ اللہ کے پاس حاضر ہوگا اور اسی کے ساتھ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کو قتل کیا ہوگا، کسی کو ناحق مارا ہوگا تو ان تمام مظلوموں میں اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی پھر اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور مظلوم کے حقوق باقی رہے تو ان کی غلطیاں اس کے حساب میں ڈال دی جائیں گی اور پھر اسے جہنم میں گھسیٹ کر پھینک دیا جائے گا“
(رواہ مسلم)

سوشل میڈیا میں اس کی ایک مثال کسی کے شعر یا تحریر کو چرا کر اپنے نام سے منسوب کر کے پیش کرنا ہے۔ ایسا کرکے آپ اس کے حقیقی مصنف کی حق تلفی کرتے ہیں اور یہ بلاشبہ چوری کے متبادل ہے

تکبر

رب تعالیٰ کو مخلوق کی جانب سے کسی طرح کا کبر شدید ناپسند ہے۔ کائنات کا پہلا گناہ جو ابلیس نے کیا وہ شائد کبر ہی تھا. ترمزی میں ارشاد ہے ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل می رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہو گا“ لہٰذا مومن ہمیشہ تکبر سے خالی اور عاجزی سے مزین ہوتا ہے۔ تکبر صرف بادشاہ ہی نہیں کرتے بلکہ مذہبی چغہ پہن کر وہ مذہبی علماء بھی کرتے ہیں۔ اس کا اظہار کبھی وہ اپنے نام کے ساتھ قطب الاقطاب، شیخ الشیوخ جیسے ڈیڑھ درجن القابات جوڑ کر کرتے ہیں اور کبھی اپنے ہاتھ پیر مریدوں سے دانستہ چموا کر کیا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ تکبر کبھی لایکس کی تعداد کا زعم دکھا کر اور کبھی مخاطب کی تحقیر کر کے کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فولک ایسڈ (فولاد) – ایک اہم غذائی جز

سود

یہ واحد گناہ ہے جسے کلام پاک میں الله اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے مترادف بیان کیا گیا ہے۔ ملاحظہ کیجیئے:

"اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو۔ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان جنگ پر خبردار ہو جاؤ، اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال (جائز) ہیں، (اِس صورت میں) نہ تم خود ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔" (٢:٢٧٢،٢٧٣)

سودی نظام میں کسی بھی طرح کی معاونت دراصل باطل نظام کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے۔ قرانی اصولوں کی بنیاد پر معاشرہ سود کی بجائے صدقات کی ذہنیت پیدا کرتا ہے۔ اسی حوالے سے ارشاد پاک ہے:
"الله تعالیٰ سود کو گھٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں۔“
(٢:١٧٦)

سنن ابن ماجہ کی یہ حدیث بھی قابل غور ہے : حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا سود کے ستر (70) گناہ ہیں ان میں سے ادنی درجہ کا گناہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔“

سود سوشل میڈیا پر گو کہ براہ راست نہیں موجود مگر بناء علم کے اس حساس ترین موضوع کی حرمت کو تختہ مشق بنانا ہلاکت ہے۔

کفر کی روش

جانتے بوجھتے حق کو چھپانا یا اس کا انکار کرنا کفر ہے اور اس کفر کی روش کو کسی فائدے کے لیے اختیار کرلینا انسان کو کافر بنادیتا ہے۔ یہ بہت بری سرکشی ہے کہ حق آپ پر واضح ہو مگر آپ اس سے پہلو تہی اختیار کریں۔ جہنم کافروں کی ہی ضیافت کیلئے ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ ہر کفر کا مرتکب کافر نہیں ہے۔ علماء کفر کرنے اور کافر ہونے میں امتیاز کرتے ہیں. آیت پڑھیئے:
"اور حق کو باطل سے خلط ملط نہ کرو اور حق کو چھپاؤ نہیں جبکہ تم جانتے ہو۔"
(٢:٤٣)

کافر ضروری نہیں کہ غیر مسلم ہی ہو بلکہ ایک کلمہ گو بھی حق چھپانے کی وجہ سے کافر ہوسکتا ہے۔ گو اس کا فیصلہ الله کریں گے۔ آج اپنے اپنے فرقہ یا عالم یا لیڈر کی اندھی تقلید میں حق کا انکار کرنا یا اسے چھپانا ایک عام روش ہے۔ اس کی لاتعداد مثالیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔

مایوسی

رحمٰن کی رحمت سے مایوسی بذات خود کفر ہے۔ اللہ پاک بارہا اپنے بندوں کو اپنی بےمثل اور بےحساب رحمت کا یقین دلاتے ہیں۔ یہ مایوسی ہی ہے جو انسان کو توبہ سے روک دیتی ہے۔ ایک تنبیہہ دیکھیں:

یہ بھی پڑھیں:   ہدایت اور اللہ کی مشیت

"اے میرے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور الله کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک الله کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔"
(١٢:٨٧)

مایوسی کی ایک مثال سوشل میڈیا پر ان افراد کی ہے جنہیں ان کا محبوب دھوکہ دے کر چلا جاتا ہے اور اب صبح و شام یہ حسرت و یاس کی تصویر بنے کبھی دکھ بھری شاعری سے اور کبھی خدا کی رحمت کو جھٹلا کر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

گناہ کا پرچار کرنا

گناہ پر ندامت ایک فطری عمل ہے چنانچہ اس سے شرمندہ ہو کر اسے چھپانا بھی ایک فطری فعل ہے۔ ایسا شخص شدید مغضوب ہے جو اپنے گناہ پر نادم ہونے کی بجائے دوسروں کو بتا کر اسکی ترغیب دے۔ آج یہ کام فیس بک پر عام ہے کہ لوگ پہلے گناہ کرتے ہیں اور پھر اسے شیئر کرکے مزہ لیتے ہیں۔ اس میں اخلاق سوز ویڈیوز سے لے کر فحش لطائف تک سب شامل ہیں۔
یہ طریق ناقابل معافی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں موجود ہے
(کل أمتی معافی الا المجاھرین)

اپنے گناہوں کی تشہیر کرنے والوں کے علاوہ میری امت کے سارے لوگوں کو معاف کر دیا جائیگا۔

گناہ کبیرہ

متقی انسان چھوٹے بڑے، دانستہ نادانستہ ہر طرح کے گناہوں سے پرہیز کرتا ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ یہ جذبات کی رو میں بہہ کر گناہ کا ارتکاب ضرور کرتا رہتا ہے۔ اسی لئے مسلسل توبہ استغفار کی تلقین کی گئی ہے۔ ایسی صورت میں الله رب العزت نے اپنی بےمثال رحمت سے مومنین کو یہ نوید سنائی ہے۔

”گر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تم سے تمھارے چھوٹے گناہ معاف کر دیں گے اور تمہیں عزت کے مقام میں داخل کر دینگے۔“
( سورۃ النساء ، آیت : 21 )

لہٰذا عقلمندی کا تقاضا ہے کہ انسان کبیرہ گناہوں سے خصوصی طور پر متنبہ رہے۔ کبیرہ گناہ حقوق العباد سے متعلق بھی ہوتے ہیں جیسے تہمت لگانا، جھوٹی گواہی دینا وغیرہ اور کبیرہ گناہ حقوق اللہ سے بھی متعلق ہوا کرتے ہیں جیسے فرض عبادات کا مکمل تارک ہونا، زکات و صدقات میں ڈنڈی مارنا وغیرہ

ان دونوں سے متعلق گناہ آپ کو سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں۔ جہاں کبھی کسی سیاسی یا مذہبی رہنما پر تہمت و بہتان باندھے جاتے ہیں اور کہیں شرک زدہ مواد کی تشہیر کی جاتی ہے۔ یہ بھی دھیان رہے کہ کوئی صغیرہ گناہ اگر انسان کی مسلسل عادت و فطرت بن جائے تو پھر وہ صغیرہ نہیں رہتا بلکہ گناہ کبیرہ بن جاتا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ قارئین کی نظر میں اور بھی کئی ایسے گناہ ہونگے جنہیں مہلک ترین کی فہرست میں داخل کیا جاسکتا ہے مگر احقر ابھی اسی پر اکتفاء کرتا ہے۔

(279 مرتبہ دیکھا گیا)

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمان عثمانی اپنے مزاج کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ بڑے بڑے موضوعات کو دو جمع دو چار کرکے سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے فیضیاب ہوتے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. Najeeb Uddin says:

    Azeem is a very good person,he knows how to behave in all circumstances.
    I am proud of him.

    • عظیم الرحمن عثمانی says:

      بہت شکریہ نجیب بھائی۔ اپنی دعا میں مجھے بھی یاد رکھیئے

تبصرہ کریں