گوشت پر قربان مت ہوجائیے

اچھی صحت انسان کے زندہ رہنے کے لیے نہ صرف یہ کہ ضروری ہے بلکہ اس حد تک ضروری ہے کہ صحت کے بغیر آپ اپنے آس پاس رہنے والوں اور معاشرے کے لیے بھی پریشانیوں کا باعث بن جاتے ہیں۔ اور صحت کی سلامتی حفظانِ صحت کے علوم میں پنہاں ہے۔ چنانچہ جو لوگ حفظانِ صحت کے اصولوں سے ناواقف ہوں وہ معاشرے میں ایک منفی کردار کا سبب بنتے ہیں اور نتیجتاً ایک صحتمند معاشرے کا خواب صرف خواب ہی رہ جاتا ہے۔

 icon-hand-o-right Read the English Version of this article

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اب عید الاضحی کی آمد آمد ہے۔ اور یہ عید ہمارے یہاں "بڑی عید" کے نام سے جانی جاتی ہے اور بڑی عید کے ساتھ خوشیاں اور نعمتیں بھی بڑی ہی ہوتی ہیں۔ اب چونکہ یہ تہوار کا موقع ہے تو اس لحاظ سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند ضروری باتیں زیرِ بحث آجائیں تاکہ عید کی خوشیوں کو صحت مند طریقوں سے منایا جا سکے۔ اس مضمون کا بنیادی مقصد قربانی، قربانی کا گوشت، گوشت کے فوائد، نقصانات، غیر ضروری یا غیر حقیقی تصورات اور اسی طرح کے دیگر معاملات کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ کئی ایسی باتیں بھی مضمون کے تحت پائی جائیں گی جو عام مشہور باتوں کی تردید کردیں گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر مشہور بات ضروری نہیں کہ سچ بھی ہو۔ کسی بھی بات کی سچائی کا پیمانہ اس کے پیچھے موجود دلیل ہوتی ہے۔ اور اگر کسی بات کے لیے کوئی دلیل نہیں تو چاہے کتنی ہی سنی سنائی اور مشہور بات ہو، اسے با آسانی رد کیا جاسکتا ہے۔ آئیے اب گوشت (لال گوشت)، اس کے استعمالات اور فوائد کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

گوشت کے غذائی فوائد

لال گوشت جو ہمیں قربانی کے جانوروں سے حاصل ہوتا ہے وہ اپنے غذائی فوائد (nutritional benefits) کے لحاظ سے اہم ترین کھانوں میں سے ایک ہے۔ گوشت کی کیمیائی ساخت کے حوالے سے جاننا اچھا ہے کہ گوشت میں ایک دو نہیں بلکہ بیسیوں ایسے کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں جو صحت پر مفید اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔

گوشت میں پروٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ پروٹین آپ کے جسم کو اسی طرح قائم رکھتا ہے جس طرح ایک بلڈنگ کو اس میں لگائی جانے والی اینٹیں۔ اینٹوں سے مراد یہ ہے کہ ہمارے جسم کی ساخت اور اس کے حجم میں پروٹین کا کردار صرف ضروری ہی نہیں بلکہ ایسا فرض ہے جس کے بغیر حیاتیاتی طور پر زندگی کو تصور کرنا بھی محال ہے۔ گوشت کے علاوہ پروٹین کا کوئی ایسا قدرتی ماخذ ہمیں با آسانی میسر نہیں جو کہ اس مقابلے کا ہو۔ اسی لیے وہ افراد جو سبزی خور یا ویجیٹیرین کہلاتے ہیں، اکثر پروٹینز کو اس آسانی سے حاصل نہیں کر پاتے جتنا کہ گوشت کھانے والے۔

یہ بھی پڑھیں:   اردو میں مستعمل اور مانوس بحور کی فہرست

اس کے علاوہ گوشت میں مختلف منرلز (Minerals) اور وٹامنز پائے جاتے ہیں جو اسے مزید مؤثر بناتے ہیں۔ وٹامن میں خاص بی 3 (B3)، بی 6 (B6)  اور بی 12 (B12)  کی ایک مناسب مقدار گوشت میں موجود ہوتی ہے۔ منرلز میں آئرن، زنک اور سیلینیم نامی دھاتیں جو کہ جسم کے لیے ضروری ہیں، گوشت میں موجود ہوتی ہیں۔ گویا اگر آپ دن میں ایک پاؤ گوشت کھاتے ہیں تو مذکورہ وٹامنز اور منرلز کی طبی طور پر مجوزہ مقدار آپ کو حاصل ہوجاتی ہے۔

اس کے علاوہ کریٹین (creatine) اور کارنوسین (Carnosine) گوشت میں پائے جانے والے انتہائی اہم غذائی اجزا (nutrients) ہیں۔ عام طور پر جو لوگ گوشت نہیں کھاتے ان میں ان اجزا کی کمی ہونے لگتی ہے جو صحت پر منفی اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔

زیادہ تعداد میں گوشت کھانے کے نقصانات

جس طرح گوشت کے غذائی فوائد کو نہیں جھٹلایا جاسکتا، اسی طرح اس کے نقصانات سے بھی منہ موڑنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ ہم جانتے ہیں کہ زیادتی ہر شئے کی بری ہے۔ اور یہاں بھی یہی معاملہ ہے کہ گوشت کی زیادہ مقدار آپ کی صحت پر منفی اثرات کا سبب بنتی ہے۔ یہ درست ہے کہ آپ کے جسم کے ہر ہر خلیے (cells) اور ہر ہر عضو کو پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ گوشت پروٹینز کا ایک بڑا ماخذ ہے اس لیے گوشت کھانے سے پروٹینز آپ کے جسم کو ملتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ آپ پڑوٹین کی غیر معینہ تعداد مستقل لیتے رہیں اور صحتمند بھی رہیں۔ کیونکہ جسم میں پروٹینز کی زیادہ مقدار دوسرے مسائل پیدا کرسکتی ہے جس میں امائنو ایسڈز (amino acids)، انسولین (insulin) اور امونیا (ammonia) وغیرہ کی خون زیادتی شامل ہے۔

اس میں پہلا نقصان تو یہ ہوگا کہ گوشت کی زیادہ مقدار استعمال کرنے سے آپ کا وزن بڑھنا شروع ہو جائے گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ لال گوشت میں خراب چکنائی (LDL) کی مقدار قدرتی طور پر دوسرے گوشتوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ چکنائی آپ کے جسم میں جا کر محفوظ ہونا شروع ہوتی ہے جو کہ وزن کو بڑھاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ مقدار سے زیادہ پروٹین حاصل کرنے سے آپ کے جسم میں زائد پروٹین کے حرارے (Calories) خود چکنائی میں تبدیل ہونا شروع ہوجائینگے جو کہ وزن کو بڑھائیں گے۔

دوسرا نقصان ضعفِ جگر کا ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ گوشت کے انہضام کے دوران کچھ زہریلے مادے جیسے امونیا بھی جسم میں بنتے ہیں۔ ہمارا جگر ان زہریلے مادوں کو مستقل طور پر ختم کرنے کا کام کرتا ہے۔ اگر آپ مستقل طور پر بہت زیادہ گوشت کا استعمال کرتے ہیں یا پھر ایک بڑے عرصے گوشت کی زیادہ مقدار استعمال کرتے ہیں تو آپ کا جگر تھک جاتا ہے جس سے اس کی کارکردگی میں فرق آنے لگتا ہے۔ اور نتیجتاً جگر کے معمول کے کاموں میں فرق پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   درد ختم کرنے والی دوائیں اور ان کے اثرات

تیسرا نقصان شریانوں کا تناؤ (Hardness in artries) ہے۔ اس کی وجہ بھی کولیسٹرول کی زیادتی ہے۔ ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ جس میں جانے والی چکنائی کا تعلق صرف اور صرف موٹاپے سے نہیں ہوتا بلکہ اس کی جڑیں بہت اندر تک پھیلی ہوتی ہیں۔ کولیسٹرول کی زیادتی جسم میں خون کی شریانوں کو بند کرنے کا کام کرتی ہے۔ اور گوشت میں ایک بڑی مقدار کولیسٹرول کی بھی موجود ہوتی۔ شریانوں میں موجود کولیسٹرول رفتہ رفتہ بڑھتا رہتا ہے جو کہ آخر کار سٹروک، دل کا دورہ اور دل کی دوسری بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

اس کے علاوہ بھی دیگر کئی نقصانات ہیں جو کہ گوشت کی زیادتی سے ہوسکتے ہیں۔ اس میں ہاضمے کی خرابی، ہائی بلڈ پریشر (خصوصاً بڑے گوشت سے) اور دیگر کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

گوشت پکانے میں احتیاط سے کام لیں

بہت سے ایسے معاملات ہیں جو آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ کسی بھی چیز کو جب تک درست طریقوں سے پکایا نہ جائے تب تک اس کی افادیت میں اضافہ اور نقصانات میں کمی ممکن نہیں ہو سکتی۔ اور درست طریقے سے پکانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گھنٹوں تک آگ کے نیچے رکھیں گے تو ٹھیک سے پکے گا۔ بلکہ مقصود یہ علم حاصل کرنا ہے کہ کونسا کھانا کس طرح پکے گا تو افادیت بڑھے گی۔

گوشت کے حوالے سے چند نکات یاد رکھیں:

  • سب سے پہلے تو گوشت پر نظر آنے والی تمام چکنائی کو دور کردیں۔
  • گوشت کو تیز آنچ اور زیادہ درجِ حرارت پر پکانے سے پرہیز کریں۔ کوشش کریں کہ گوشت ہلکی آنچ اور کم درجۂ حرارت پر پکا کر گلایا جائے۔
  • بھاپ (Steam) میں گلا ہوا گوشت اس معاملے میں سب سے زیادہ مثالی پکوان ہوگا۔ پریشر کوکر کا استعمال بھی اس سلسلے میں بہتر ہے۔ یا پھر تیز گرم پکوان تیل میں گوشت کو تل کر پکانا بھی نقصانات کو کم کردیتا ہے۔
  • گوشت کو براہِ راست آگ پر نہ رکھیں۔
  • اگر تیز آنچ پر پکانا ضروری ہو تو گوشت کو مسلسل الٹ پلٹ کر پکائیں، تاکہ ایک ہی طرف مسلسل آنچ نہ پڑے۔

کچھ تکہ بوٹی (BBQ) کے بارے میں بھی سنیں

بہت سے لوگوں کو یہ خیال ہے کہ تکہ بوٹی چونکہ خالص اور قدرتی آگ اور لکڑیوں پر بننے والا کھانا ہے اس لیے اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ کئی لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ قربانی کے گوشت کا ایک بڑا حصہ تکہ بوٹی کی نذر کردیتے ہیں۔ اور ساتھ ہی بقر عید کے موقع پر ایک دو نہیں بلکہ متعدد تکہ پارٹیاں ہمارے معمول کا حصہ بن جاتی ہیں۔ بقر عید کے علاوہ عام دنوں میں بھی لوگ مرغی کے تکوں کا وقتاً فوقتاً اہتمام کرتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دید کی تردید

اس سلسلے میں اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا ضروری ہے کہ براہِ راست آگ پر پکے ہوئے کھانے، چاہے وہ گوشت ہو یا کوئی اور غذا ہو، اگر اسے احتیاط سے نہ بنایا جائے تو بہت زیادہ نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ آگ کے چھونے سے جلنے والا گوشت یا روٹی یا کسی بھی کھانے کا وہ حصہ جو کالا ہو گیا ہو اس میں مختلف کیمیائی مرکبات وجود میں آجاتے ہیں۔ ان مرکبات میں ہیٹرو سائکلک امائنز (Hetrocyclic Amines) اور پولی سائکلک ارومیٹک ہائڈرو کاربن (Polycyclic aromatic hydrocarbons) قابلِ ذکر ہیں۔ ان کیمیائی مادوں کو اگر کھایا جائے تو کینسر کے مرض کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اور اگر بڑی تعداد میں ان مادوں غذا میں شامل کیا جائے تو کینسر کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ چنانچہ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ باربی کیو اور تکہ بوٹی بالکل محفوظ شئے ہے تو آپ غلط فہمی میں ہیں۔ اور زیادہ تر تکہ بوٹی کھانے والے افراد جلے ہوئے حصے کو الگ کیے بغیر کھالیتے ہیں جو کہ کسی بھی طرح صحت مند رویہ نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ تکہ بنانے کے بعد جلا ہوا جو جو بھی حصہ ہو اسے چھری سے کاٹ کر الگ کرلیں۔ اور جو ذرات نظر آئیں انہیں انگلی سے پکڑ کر نکال کر کھانے سے الگ کرکے کھانا نوش فرمائیں۔

یاد رکھیں!

گوشت تاریخی طور پر امیروں کی غذا ہے۔ اور آج بھی گوشت خریدنے اور کھانے کی استطاعت رکھنے والے افراد وہی ہیں جو اچھا کھانے پینے کا خرچہ برداشت کرسکتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ زیادتی ہر شئے کی بری ہوتی ہے۔ اور خصوصاً لال گوشت جس کے حوالے سے صدیوں سے طب کے ماہرین سرزنش کرتے آئے ہیں، تو اس میں مزید احتیاط برتنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ یوں بھی اگر آپ کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہے تو آپ کو سمجھنا چاہیے کہ گوشت کا ہضم دوسرے کھانوں سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ جوں جوں آپ کی عمر بڑھتی جاتی ہے، جسم کے اندرونی اعضا سست ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ آپ کو ایسی غذاؤں کی طرف توجہ دینا ضروری ہوتا ہے جو کہ ہضم کرنے میں آسان ہوں اور آپ کی صحت پر منفی طور پر اثر انداز نہ ہوں۔

(150 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں