ہاتف غیبی - لکھنے والوں کے نام

نئے لکھنے والوں کے پیش نظر اور بالخصوص وہ کہ جن کاتعلق علومِ دینیہ اوراللہ کے دین کی دعوت و تبلیغ سے ہے ، وہ یہ جذبہء خیر اپنے اندر پاتے ہیں کہ ان کی تحقیقات و افکار بھی لوگوں تک مؤثر انداز میں پہنچیں، ان احباب اور دوستوں کے لیے اکثر یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ ہم تحریر کیسے سیکھیں، فن تحریر میں کمال کیسے حاصل کیا جائے، کونسی کتب سے استفادہ کیا جائے اور کن اساتذہ کا تلمذ اختیار کیاجائے،قلمکاری کے وہ کونسے گُر ہیں کہ جنہیں سیکھ کر صفحہ و قرطاس پر الفاظ کے موتی پرونا سیکھا جائے، دل میں یہ خواہش بھی جنم لیتی ہے کہ ہم بھی عالِمِ برحق کا کردار اداکریں اور زبان کی طرح قلم کا بھی بھرپور استعمال سیکھ جائیں۔

جن لوگوں کی زندگی کا مشن دعوت الی اللہ ہے ان کا یہ جذبہ لائق تحسین، اور یہ شوق بےحد مُبارک ہے، اس شوق و جذبے کو لیے بہت سے طلباء کتب و رسائل سے اور بعض جیّد اساتذہ سے الفاظ و بیان کے نئے اور عمدہ تراکیب، محاورات و ضرب الامثال، تشبیہات و استعارات کے استعمال کو سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ تمام تر محنت و کوشش لائقِ تحسین اور اجر کے اعتبار سے بےاندازہ قیمتی اور قابلِ قدر ہے،تاہم غور کرنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ تحریر کی کوئی سی بھی صنف ہو، اور زبان دانی کا کوئی سا اصول ان سب کا تعلق اصلاً ان ہدایات سے ہے جنہیں ہم ”ظاہری“ ہدایات کہہ سکتے ہیں۔

اگر غور کیجیے تو ان کے اہتمام کا تمام ترتعلق اصلاً ہماری رائٹنگ اسکلز سے ہے۔
اگر محنت و کوشش کی جائے تو انشاءاللہ یہ صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے۔ لکھتے لکھتے ایک وقت آتا ہے کہ بڑے سے بڑے موضوع پر قلم دانی کے جوہر دکھانا انتہائی سہل اور سُلگتے ایشوز پر الفاظ کے دریا بہانا بہت آسان معلوم ہونےلگتاہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لکھنے والے مصنفین اور تقاریر و بیانات کرنے والے ان گنت مقررین ِاُمّت جو خدمت انجام دےرہے ہیں وہ اپنی اصل میں صفحات کو سیاہ کرنے اور شور کی آلودگی پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

روزانہ لاکھوں کی تعداد میں رسائل و مضامین چھپ چھپ کر میڈیا کی زینت بنتے ہیں، سینکڑوں شعلہ بیان مقررمجالس و کانفرنسوں میں تقریری چمتکار دکھا کر ہجوم و بھیڑ سے داد وتحسین وصول کرتے ہیں، ہزار ہا معتقدین اپنے اپنے مکاتب فکر کے ”حضرت“ کے بیانات سن سن کر سردھنتے اور دین و مذہب کے عنوان پر بیوپار کرنے والوں کے گاہک کا کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر کسی شخص نے انہی جیسا ایک ”مجاہد“ اور بننا ہے تو اس کے لیے زبان دانی اور فن تحریر کے اصول، قواعد و انشاء محاورات و ضرب الامثال کا درست استعمال سیکھ لینا بہت کافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسانی شخصیت پر دعا کے اثرات

تاہم جس حقیقت کی طرف ایک داعئ حق کو توجہ و دھیان مرکوز رکھنی چاہیے وہ ان اصولوں سے بڑھ کر خدائے بزرگ و برتر سے براہ راست تعلق ہے، کیونکہ خدا کا گواہ بننا نا زبان و قلم کا کمال دکھانے کا نام ہے اور نا ہی تقاریر و بیانات کی دھوم مچاناہی اس کے پیش نظر ہے ، یہ درحقیقت اپنے آپ کو سُولی پر لٹکانے اور پھانسی پرچڑھانے سے بھی زیادہ سخت تجربہ ہے، جو شخص بھی اپنی زات کی نفی کی قیمت پر اللہ رب العزت کی طرف بڑھا ہو یہ متاعِ بیش قیمت اسی کا نصیب ہے۔

ایسے ہی ایک شب راقم الحروف بستر پر نیم دراز ان خیالات میں گُم غلطاں و پیچاں تھا کہ کیسے میں ایک بہترین قلم کار اور خدا کی نظر میں ایک سچا داعئ بن سکتا ہوں، کہ ایک ہاتف غیبی کی پُر سوز و پُرکیف آواز نے مجھے اپنی جانب متوجہ کرلیا۔

”اے بندہ ء خدا ، مجھ سے پوچھو میں تمہیں سمجھاتا ہوں، خدا کا سچا داعی بننا کیا ہوتاہے، بہت غور سے سنو،“
ہاتف کی آواز کی نرمی بہت پرکیف تھی، میں یہ سوچے بغیر کہ یہ کون ہے، اسکی طرف ہمہ تن متوجہ ہوگیا۔
وہ گویا ہوا۔ ۔ ۔ ۔
”اےبندہ ء خدا، جیسے ایک عاشق کے کلام میں پڑھنے والے اسکے معشوق کو ڈھونڈتےہیں، جیسے ایک فن پارہ اپنے مصور کے وجدان کی آواز ہوتا ہے، ایسے ہی اگر چاہتے ہو کہ تمہارے الفاظ رب زوالجلال کا تعارف بنیں، اور تمہاری تحریروں میں لوگ تمہارے محبوب رب کو ڈھونڈیں تو کان لگا کر میری بات کو سُنو!

عزیز از جاں دوست، ایک ہے الفاظ کا ظاہر ، اور دوسرا ہے اس کا باطن (یعنی اس کی حقیقت) ، ذرا رُکو۔ ۔ ۔ ۔ ،۔ ۔ زرا سمجھو،۔ ۔ ۔ زرا سوچو۔

حقیقت کا بہرِ بیکراں الفاظ کی قید سے بہت آگے کی چیز ہے، جس کو اگر تُم زمین و آسمان کا فرق بھی کہو تو کم ہے۔

سمندر کی حقیقت کسی کوسمجھانے کے لیے الفاظ و بیان کے کتنے ہی دریا بہا دیےجائیں سطر در سطر اسکی ہیبت وبڑائی کو بیان کرنے کی کیسی ہی کوشش کیوں نا کرلی جائے، ”اصل سمندر“ کے مقابلے میں تُمہارا لفظی سمندر ہمیشہ ہیچ و حقیرہی رہے گا۔

میرے محترم دوست، سمندر میں اُتر کر سمندر کو سمجھنا سمندر کو پڑھ کر سمجھنے کے مقابلے میں ہمیشہ اعلیٰ و ارفع ہی رہیگا!!

میرے محبوب ساتھی، بعینہ معاملہ دین و ایمان سے متعلق تحریروں کا بھی ہے، ایک ہے اسکلز کی بنیاد پر لکھنا اور دوسرا ہے صاحب حقیقت بن کرلکھنا، ان میں فرق و تفاوت بالکل ویسا ہی ہے جو لفظی سمندر اور حقیقت کے سمندر میں ہے!!

ایمان و تقوی کے متعلق تُم زبان و بیان کے تمام اصول بروئے کار لاتے ہوئے چاہے جتنی اچھی تحریر لکھ ڈالو، اگر اس تحریر نے خود تمہاری آنکھ سے آنسو جاری نہیں کیے، اگر تمہاری ہی دھڑکنیں الفاظ کو نوک قلم سے قرطاس پر بکھیرتے ہوئے بےترتیب نہیں ہوئیں، خود تُمہارے ہی قلب پر اس کے اثر سے رقت طاری نہیں ہوئی تو یہ پیشگی اعلان ہے اس بات کا کہ قاری بھِی تمہاری عوت کے اثر سے بےاثر رہیگا!

یہ بھی پڑھیں:   زبان کی آفات

اور سُنو!
میں جب صاحب حقیقت کہہ رہا ہوں تو اسکے معنی ہیں ”ایمان کی صفات“ کے ساتھ لکھنا۔ اور یہ تب پیدا ہوگا جب لکھنے سے قبل تُم اپنی ذات کو مخاطب کرکے سوال پوچھو، کہ جو بات کہنے جارہے ہو خود اس پر کس قدر عمل پیرا ہو؟

جونہی یہ سوال تُم خود اپنے آپ سے کروگے حقیقت کے سمندر کی ایک زبردست موج تُمہارے دل میں اٹھے گی۔

اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوجائیں گے، جیسے ہی آنسو نکلنا شروع ہوجائیں، تو سمجھ لینا یہی بہترین وقت ہے لکھنے کا۔

بسمہ اللہ پڑھ کرقلم اٹھالینا، اب اللہ رب العزت چپکے سے دل میں آن بیٹھیں گے،
کیونکہ اب تُم اسکلز کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اللہ کی مدد کی بنیاد پر لکھ رہے ہوگے،
اب تُم نہیں لکھوگے، بلکہ اللہ لکھوائینگے،
اب تُم نہیں کہوگے، بلکہ اللہ کہلوائیں گے،
اب اسکلز میں بھی نکھار آنا شروع ہوجائے گا اور حقیقت بھی کسی ملکوتی کلام کی طرح دل میں اترنا شروع ہوجائیگی۔

داعی براہ راست خدائی فیضان کی بنیاد پر دین کی دعوت پہنچاتا ہے، قبر کے اُس پار کے معاملات سےقبر کے اِس پار والوں کو باخبر کرتا ہے، وہ موت سے پہلے مرچکا ہوتا ہے، قیامت سے پہلے ایک قیامت اس کے دل پر گزر چکی ہوتی ہے۔

یہ تب ہوگا جب تُم خود بھی نورِ ایمان کی ان صفات سے متصف ہوگے، وہ بجلی جب تک تُمہاری ذات پر نہیں گری ہوگی اس وقت تک دوسروں تک اسکی رسد بھی ممکن نہیں ہے۔

ہاتف غیبی کسی الہامی کلام کی طرح میرے دل کو پگھلائے دے رہی تھی، اس کی نصائح کا اثر میرے وجود کو جھنجھوڑ رہا تھا، وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگیا، چند لمحوں کی یہ خاموشی صدیوں پر محیط لگنے لگی۔

دفعتاً میرے دل میں خیال آیا، کہیں وہ چلانا گیا ہو، میں نے سوال کیا، اے میرے محبوب! سنو۔۔۔سنو میرے عزیز۔۔۔کیا میں ایک سوال کرسکتا ہوں؟

مجھے بتائیے، مجھے سمجھائیے یہ کیفیات مجھے کہاں سے ملیں گی؟ میں کیسے اپنے قلم میں وہ تاثیر پیدا کروں کہ میرے الفاظ میں لوگ خدا کو پالیں، میری تحریر میں لوگوں کو ایمان کی حلاوت ملے؟؟

میں خدا کا سچا داعی بننا چاہتا ہوں، میری تحریر آنسوؤں سے تر نہیں ہوتی، میری بات خود میرے دل پر اثر نہیں کرتی، مجھے بتائیے، ازراہ کرم مجھ پر احسان کیجے۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے آنسو میرے رخسار پر جاری ہوگئے،

یہ بھی پڑھیں:   دل اور دماغ کا فرق

چند لمحوں کے توقف کے بعد غیبی آواز پھر گویا ہوئی، اور بہت ٹھہر ٹھہر کر یہ الفاظ کہے،

”کیا تُم نے گرمیوں کی دوپہر میں آسمان کا رنگ دیکھا ہے؟

اور فاختہ کی لمبی آواز نے کانوں میں رس گھولا ہے؟
گھُو گھوُ ۔۔۔۔۔گھُو ۔۔۔۔گھُو۔۔۔۔گھُو۔۔۔

خزاں رسیدہ سپہروں میں جنگلوں میں سنسناتی ہواؤں کو محسوس کیا ہے؟ اور درختوں کی کراہیں سنی ہیں؟

سردیوں کی گہری کہر میں گھر کے پچھلے باغ میں تنہا بیٹھ کر غور و فکر میں گزارا ہے؟

رات کے پچھلے پہر، اپنے جھُنڈ سے بچھڑ جانے والی کونج کی بیقرار چیخ سُنی ہے؟

رات کے کسی پہر چونک کر جاگےہو؟ اور اپنے سر پر کسی نادیدہ پرندے یا فرشتے کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ محسوس کی ہے؟

صبحِ صادق کے وقت فلک پر ابھرتے نقرئی غبار کو دیکھا ہے؟

بوقتِ فجر چڑیوں کی حمد کےساتھ ملحقہ مسجد سے اُبھرتی حئی علی الفلاح کی آواز سنی ہے؟
اگر نہیں؟
تو تم ان کیفیات کو نہیں پاسکتے!!! “

اُس کے یہ الفاظ میرے وجود کو نہال کیے دے رہے تھے، میں کچھ کہنے کے لیے زبان ہلانا ہی چاہتا تھا،
کہ وہ پھر گویا ہوا!

”میرے عزیز ایمان کی اس کیفیت کو پانے کے لیے خاموشیوں سے ہم کلام ہونا سیکھو، فرشتوں کی سرگوشیوں کو بوقت تہجد اپنے ارگرد محسوس کرنا سیکھو، یہ تب ہوگا جب نگاہ عبرت سے ہرشئے پر نظر کروگے،

خدا کا چہرہ ہرشے میں جھلکتا ہوا دکھائی دیگا، پہاڑوں کی بلندیوں اور آسمان کی وسعتوں میں وہ خاموش عظمتوں کا مظاہرہ کررہا ہے۔

پھولوں کی پتیوں اور تتلیوں کے پروں میں وہ لفافت کا خزانہ بکھیر رہا ہے، دریا و سمندر کی موجیں اسکی عظمت و جلال کے خیال سے ہمہ تن وجد میں ہیں، ستاروں اور سیاروں کی دنیا میں وہ ہرآن متحرک ہے، ہری ہری گھاس سے لے کر نیلگوں آسمان تک ہرشئے اس کی حمد و تسبیح بیان کررہی ہے،

جب تم یہ سننے اور سمجھنے لگو گے تو یہ تمام کیفیات اور تمہارے قلم میں وہ اثر خودبخود پیدا ہونا شروع ہوجائیگا!''

اس نے اپنی بات ختم کی اور
اچانک ملحقہ مسجد سے فجر کی آذان کی آواز بلند ہوئی۔
اللہ اکبر۔۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔۔
میں بےاختیار مسجد کی طرف چل دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے آسمان پر وہ نقرئی غبار، چڑیوں کی چہچہاہٹ میں خدا کی حمد، اور رکوع و سجود میں جو حلاوت محسوس ہوئی وہ اس سے پہلے کبھی نا ہوئی۔

اےہاتف غیبی تمہارا شکریہ!

(69 مرتبہ دیکھا گیا)

سید اسرار احمد

سید اسرار احمد ایک متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی اور فکری بالیدگی نمایاں ہوتی ہے۔ ان سے جڑے رہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں