کیا مسیحا اب جان لیتے ہیں ؟

مزمل شیخ بسمل صاحب نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں پین کلرز(pain killers) اور اینٹی بائیوٹکس(antibiotics) کے بارے راۓ دی کہ کوئی بھی دوا اپنے مضر اثرات سے پاک نہیں ہوتی، بظاہر میں انکی بات کی تائید کرتا ہوں کہ میں نے ڈسپرین سے الرجک بندے بھی دیکھے ہیں، مگر کیا ہمیں صحیح ادویات میسر بھی ہیں؟

یہ مضمون دیکھیں  icon-hand-o-left  درد ختم کرنے والی دوائیں اور ان کے اثرات

فارماسیوٹیکل کمپنیز(Pharmaceutical Companies) نے دنیا میں بیماریوں کے خلاف جتنا جہاد کیا ہے وہ قابلِ ستائش ہے مگر انہی کمپنیوں کی آڑ میں پاکستان میں دن رات نقلی اور غیر تصدیق شدہ ادویات بنا بنا کر لوگوں کی صحت کا گراف بھی گرایا جا رہا ہے۔اس کارِ خیر میں سب سے بڑا ہاتھ سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں اور میڈیکل سٹورز کا ہے۔

کوئی بھی دوا جانچنے کا پیمانہ پاکستان میں اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔

مارکیٹ میں ایک ملٹی نیشنل دوا کی جگہ اس سے مشابہت رکھنے والی درجنوں غیر معیاری ادویات نے لے لی ہے۔ایک ملٹی نیشنل کمپنی آپ کو ایک دوا اصل قیمت سے 15فیصد رعایت پر دیتی ہے یہ مارکیٹنگ کا اصول ہے مگر وہی دوا اگر آف سیزن میں ایک بڑے مارجن پر سٹاک کروا لی جائے تو آپکو اس دوا پر مزید 15 سے 20 فیصد تک ڈسکاؤنٹ مل جاتا ہے۔ یعنی ایک دوا پر 30 سے 35 فیصد مارجن بیچنے سے پہلے ہی مل رہا ہوتا ہے, اور اگر آپ ایسی ایک دوا خرید کر استعمال کئے بغیر ہی واپس کرنے آئیں تو مطلوبہ میڈیکل سٹور والے آپکی ادا کی ہوئی قیمت سے بھی 15 فیصد کاٹ کر آپ کو لوٹاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ریاضی میں لا محدودیت - ایک پراسرار تصور

کیوں؟ اس کا مجھے آج تک پتہ نہیں چلا۔

اگر ہمیں ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکلز مثلاً SAMI یا NOVARTIS وغیرہ کا انجیکشن میسر ہو جوکہ مختلف بیماریوں مثلاً گلے کی سوزش، یرقان، فنگل انفیکشن(Fungal Infection) سے نجات کا باعث بنتا ہے مگر یہی انجیکشن ایک دیسی فارما کا بنا ہو جس میں سرے سے ہی پاؤڈر کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تو ایسے میں اینٹی بائیوٹکس کے مضر اثرات پہ بات کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

دوسری جانب ہسپتالوں میں بیٹھے کچھ ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹر یا تو معیار سے بہت زیادہ اونچی اور مہنگی ترین دوا مریض کو لکھ دیتے ہیں یا پھر گھٹیا کوالٹی کی تھرڈ کلاس گولیوں کی ہدایت کر دیتے ہیں، جو نومولود بچوں کا یا تو پیٹ خراب کر دیتی ہیں یا اتنی ہائی پوٹینسی ادویات کھلانے سے انکی قوت مدافعت آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے اور پھر ہلکا سا بخار ہونے پر بھی یہ مہنگی اور ہائی پوٹینسی ادویات انکا مقدر بن جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مستشرقین کے احادیث نبوی ﷺ پر اعتراضات

یہی وجہ ہے کہ آج کل بچے بیمار ہوجائیں تو جلد صحت یاب نہیں ہو پاتے۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ ڈاکٹر ایسا کیوں کرتے ہیں؟

تو اس کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ یہ ملٹی نیچنل کمپنیاں ان ڈاکٹروں کو ماہانہ کا معاوضہ دیتی ہیں تاکہ انکی ہی کمپنی کی اینٹی بائیوٹکس، اینٹی ڈپریسنٹس بکتی رہیں، اس کے علاوہ ہلکی پھلکی دعوتیں اور گفٹس وغیرہ ڈاکٹروں کو ملتے ہی رہتے ہیں اور یوں کمپنیوں کا بھی ادویات کا سالانہ کوٹہ پورا ہو جاتا ہے۔

ایک اور جانب میٹرنٹی ہومز (Maternity Homes) پاکستان میں ابھرتا ہوا شعبہ ہیں۔جس طرح ہسپتالوں کا میڈیکل سٹورز سے الحاق ہوتا ہے بالکل اسی طرح ان میٹرنٹی ہومز کا بھی مخصوص ہسپتالوں کے ساتھ الحاق ہوتا ہے جہاں حاملہ عورتوں کی صحت سے متعلقہ تمام ادویات رکھوا دی جاتی ہیں۔

جب ایک خاتون حاملہ ہوتی ہے تو دوسری کئی ضروریات کی طرح خون بنیادی ضرورت ہوتا ہے کہ عموما پریگنینسی کے دوران خون کی کمی ہو جاتی ہے۔ایسی نازک صورتحال میں کسی کا خون لینے سے گریز کیا جاتا ہے تاکہ عورت اور بچے کو پریشانی نہ ہو بلکہ اس کے متبادل آئرن سُکروز(Iron Sucrose) کے انجیکشن کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ ڈیلیوری تک خون کی متعلقہ مقدار پوری رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ڈی این اے - ایک حیرت کدہ

مگر یہاں بھی اصلی انجکشن کی بجائےگلوکوز ہی لگادیا جاتا ہے اور پھر اپنی مخصوص لیبارٹری سے خون کی پوری مقدار کی رپورٹ بنوائی جاتی ہے( واضح رہے اگر حاملہ عورت میں خون کی مقدار پوری ہے تو یہ رپورٹ بھی بنوائی جاسکتی ہے کہ خون کی کمی ہے، یا ہیپاٹائیٹس یا یرقان وغیرہ پازیٹو ہے تاکہ متعلقہ کورسز کا کوٹہ پورا کرکے پیسے کمائے جا سکیں)

احقر نے جہاں تک ذاتی مشاہدہ کیا ہے اس کی رو سے وہ ایک سوال کرنے کا جواز رکھتا ہے اور وہ یہ کہ

" کیا مسیحا اب جان لیتے ہیں"؟

(195 مرتبہ دیکھا گیا)

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

5 تبصرے

  1. محترم آپ کی رائے بھی درست لیکن مزمل صاحب نے بھی غلط نہیں کہا. میں کافی بھگت چکا ہوں اور اب ایلوپیتھک دوائی کھانے سے پہلے کئی بار سوچتا ہوں کہ اس بغیر گذارا ہو سکے تو کر لوں. دیگر اب بہت سے ڈاکٹر ہربل میڈیسن دینے لگ گئے ہیں

  2. Abubakar says:

    محترم افتخار اجمل صاحب آپکی رائے کا بہت بہت شکریہ، تحریر لکھنے کا یہ ہرگز مقصد نہیں تھا کہ مجھے مزمل بھائی کے مضمون سے کسی قسم کا اختلاف تھا بلکہ یہ تحریر انہی کے مضمون کی تائید کرتے ہوئے لکھنے کا ارادہ بنا کہ بتایا جائے کونسی ادویات ہمیں نقصانات پہچاتی ہیں۔۔۔جیتے رہیں

  3. جناب ۔ آپ نے سُنا ہو گا ”دودھ کا جلا چھاچھ سے بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے“ یا ”سانپ کا کاٹا رسی سے بھی ڈرتا ہے“۔ میں ایک دوائی سے نہیں کئی دوائیوں کا ڈسا ہوا ہوں اور ایک دو سال نہیں یہ بپتا 25 سال کی ہے ۔ ڈاکٹر میری بات مانتے نہیں تھے اور میرا ستیاناس ہوتا رہا ۔ میں انجنیئرنگ کالج میں فرسٹ ایئر میں تھا ۔ گلا خراب اور بخار ہوا ۔ ڈاکٹر نے اَینٹی بائیوٹیک دوائی دی میں مزید بیمار ہوتا گیا حتٰی کہ اُٹھ کر بیٹھنے کے قابل بھی نہ رہا ۔ سب دوائیاں بند کر دی گئیں تو ٹھیک ہوا مگر سال ضائع ہو گیا ۔ بعد میں بھی گاہے بگاہے یہی کچھ ہوتا رہا ۔ آخر 1972ء میں ای این ٹی سپیشلسٹ کو مجھ پر ترس آیا اور اس نے مجھے کیپسول دینے کی بجائے دیسی علاج بتایا جو چار مہینے کیا اور اللہ نے ایسا کرم کیا کہ اس بیماری سے ہمیشہ کیلئے جات مل گئی
    دسمبر 1974ء میں بخار ہوا ۔ ڈاکٹر نے ملیریا کی دوائی دی ۔ طبیعت مزید خراب ہوتی گئی ۔ دو دن بعد ڈاکٹر کو فون کیا ۔ ڈاکٹر نے کہا “یہ دوائی امریکہ کی بہترین کمپنی نے سالہا سال کی تحقیق کے بعد بنائی ہے اس سے کچھ نہیں ہو سکتا“ ۔ دو دن اور گذرنے کے بعد ہسپتال پہنچا ۔ تین دن رات بیہوش رہا مزید دس دن سر نہ ہلا سکا ۔ جسم کا آدھا خون پیشاب کے راستے خارج ہو چکا تھا ۔ کسی ڈاکٹر کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے ۔ بس خون کی ایک بوتل لگا دی تھی جو دو دن میں بھی نہ چڑھ سکی کیونکہ بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا ۔ ایک سال کے اندر کئی اور مریض نشانہ بنے تو حکومتِ پاکستان نے دوائی ممنوع قرار دے کر سب دکانوں اور ہسپتالوں سے اُٹھا لی ۔
    سر میں درد ہوا نیوروفزیشن کے پاس گیا ۔ دوائی دی اور پرہیز بتائی ۔ مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔ پہلے دو تین ماہ بعد سر مین درد ہوتا تھا اور چھ سات گھنٹے میں ٹھیک ہو جاتا تھا ۔ نوبت یہان تک پہنچی کہ پانچ دن سر درد سے تڑپتا رہا اور درد ٹھیک ہونے کے بعد نظر خراب ہو چکی تھی ایک کی بجائے کئی نظر آتے تھے ۔ کمرے میں اندھیرا کر کے بیس دن بستر پر پڑا رہا ۔ آئیندہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے توبہ کی ۔ کسی نے ایک دیسی نسخہ بتایا جو چار ماہ استعمال کیا اور اس کے بعد کبھی کبھی استعمال کر لیتا ہوں ۔ بیس سال ہو گئے سر مین کبھی درد نہیں ہوا ۔ دیسی نسخے سارے اتنے ارزاں ہیں کہ بہت کم آمدن والے بھی استعمال کر سکتے ہیں

  4. Abubakar says:

    Allah Apko Sehat Ata Farmaye...

  5. Abubakar says:

    صرف دوباتیں۔ ایک تو یہ کہ فطرت بہت زیادہ مداخلت پسند نہیں کرتی لہذا جہاں تک ممکن ہو ڈاکٹروں اور دوائیوں سے بچا جائے (iatrogenesis تلاش کرکے دیکھیں)۔۔ اور دوسرا یہ کہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں دواؤں کے اثرات کے جو دعوے کرتی ہیں ان کی شماریاتی بنیادیں بہت مخدوش ہیں-

تبصرہ کریں