ہم جنسیت (Homosexuality)

مجھ سے کچھ دوستوں نے ہم جنسیت (Homosexuality) کے طبی حقائق کے حوالے سے سوال کیا ہے۔
انہیں فرداً فرداً جواب دینے بہتر یہ سمجھا کہ تفصیلی پوسٹ لکھ دوں تاکہ افادۂ عامہ کے لیے جاری کیا جاسکے۔
سب سے پہلے سوال کی نوعیت اور اس سوال کی وجہ کو جاننا ہوگا۔ آپ نے مجھ سے غالباً طبی حقائق کے حوالہ سے اسی لیے سوال کیا ہے کہ میں آپ کی درست سائنسی رہنمائی کروں۔ اس لیے میری ذمہ داری یہ ہے کہ سائنسی لحاظ سے جو غیر جانبدارانہ بات ہے وہ میں آپ کے سامنے پیش کردوں۔
ہم جنسیت جنسی رجحان (Sexual Orientation) کی ایسی قسم ہے جس میں کسی بھی شخص کی جنسی رغبت اپنے ہم جنس کی جانب ہوتی ہے۔
اب اس رغبت کی وجوہات کیا ہیں؟ سائنس اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ کیا یہ محض سائنس ہی کا موضوع ہے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو میری گفتگو کا مرکز رہیں گے۔
بہت سے احباب اس حوالے سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم جنسیت جینیاتی مسئلہ ہے جس میں ایک شخص پیدائشی طور پر وہ خصوصیات لے کر آتا ہے جس کی وجہ سے جنسی رجحان ہم جنسوں کی جانب ہو جاتا ہے۔ میں عام طور پر سب سے پہلے یہ سوال کرتا ہوں کہ اس بات کا ماخذ کیا ہے؟ ایک ہم جنس پسند عورت کے جنسی میلان کو ہم جنسیت کی طرف لانے کے لیے دو ایکس کروموزامز(X-chromosomes) درکار ہیں جو اس خصوصیت کو عورت پر غالب (Dominant) بنا سکیں۔ گویا اگر ایک عورت کی ماں ہم جنس پرست ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے باپ میں بھی ہم جنسیت کے کریکٹرز پائے جاتے ہوں۔ بصورتِ دیگر وہ خصوصیت غالب ہونے کی بجائے مغلوب (Recessive) ہو جائے گی۔ جب کہ ایسا کسی بھی سائنسی تحقیق کے نتیجے میں ثابت نہیں کیا جاسکا کہ کسی ہم جنس پرست عورت کے ماں اور باپ دونوں میں یہ کریکٹر پایا جاتا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   جا یار! سگرٹ پکڑ لے

یہ تو ہوا ایک الزامی جواب۔ اب درست بات یہ ہے کہ اس حوالے سے تمام معتبر تحقیقی ادارے جن میں American Psychological Association، Psychiatric Association، American Academy Of Pediatrics وغیرھم شامل ہی، سب اس بات پر متفق ہیں کہ جنسی رجحان کی اب تک کوئی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔ یعنی اب تک کسی معتبر ذرائع سے یہ بات نہیں کہی گئی کہ جنسی رجحان اور خصوصاً ہم جنسیت کی وجہ خاص جینیاتی مسئلہ ہے۔ یہاں یہ بات تو واضح ہوگئی کہ جو لوگ اسے محض جینیاتی مسئلہ قرار دے رہے ہیں ان کا قیاس قبل از وقت ہے۔

اگلا مسئلہ ان لوگوں سے متعلق ہے جو ہم جنسیت کو طبی طور پر نقصان دہ عمل کہہ کر رد کرتے ہیں۔ بہت سی عجیب و غریب اور بے معنی بیماریاں بھی سننے میں آتی رہتی ہیں۔ لیکن سائنسی لحاظ سے صرف ایچ آئی وی انفیکشن (HIV infection)،ایڈز، سوزاک، ہیپاٹایٹس اور چند دیگر جنسی ذریعہ سے پھیلنے والی بیماریاں سامنے آئی ہیں جن کا تدارک ویکسینیشن اور دیگر حفاظتی اقدامات سے کیا جاسکتا ہے۔ ہاں البتہ مرد کا مرد سے جنسی معاملہ ان بیماریوں میں سب سے زیادہ بڑا خطرہ بنتا ہے۔

میری رائے میں جنسی رجحان کی بحث سائنسی ہونے سے زیادہ فلسفے کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اسے سائنسی بنیادوں پر سمجھنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور انسان کے بنیادی مقاصد کے حوالے سے بھی سمجھنا اور اس پر گفتگو کرنا ضروری ہے۔ اب تک جو کچھ ہم معتبر ذرائع سے جان سکے ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ ہم جنسیت میں کئی عناصر کار فرما ہیں جس میں بنیادی طور پر دماغ کی ابتدائی نشو و نما، نفسیات کا کسی خاص سمت میں ترقی پانا، بچپن سے لڑک پن تک آنے میں حالات کی صورتحال وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سائنس دانوں اور نفسیات دانوں کا خیال یہ ہے کہ انسانوں کی جینیات میں بھی ایسی لچک موجود ہے جو کہ اپنے آس پاس کے حالات کے مطابق جنسی رجحان کو کسی خاص طرف موڑ تی ہے۔ اس بات کا صاف مطلب یہ بنتا ہے کہ ہم جنسیت کوئی ”عین فطری“ چیز نہیں جس کا دفاع اسے عین فطرت ثابت کرکے کیا جاسکے۔ پھر ایک اور بات یہ بھی ہے کہ ہم جنسیت بقا کے مخالف ایک رویہ ہے۔ فرض کیجیے ہمیں اس سے غرض نہیں ہے کہ ہم جنسیت کا رجحان کس طرح نمو پا رہا ہے۔ لیکن اگر محض اس رجحان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے نتائج پر غور کیا جائے تو یہ انسانی بقا کے لیے ایک آزمائش ہے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ سائنسی طور پر انسان یا کسی بھی جاندارکی زندگی کا مقصد اپنا تحفظ اور اپنی نسل کو آگے بڑھانا (To survive and reproduce) ہے۔ اب اس ارتقاء کے پہلو سے بھی دیکھیے تو ہم جنسیت کوئی فائدہ مند شئے نہیں ہے۔ میرے خیال میں ہم جنسیت کی ترقی میں شامل معلوم ذرائع کی روک تھام اور ایسے ماحول کے فروغ کی ضرورت ہےجس سے اس رجحان کا خاتمہ ہوسکے۔ کیونکہ ہم جنسیت کا فروغ بھی ایسے حالات کی ترقی کا سبب ہے جو خود ہم جنسیت ہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ کبھی کسی صورت میں بھی انسانی بقا کے لیے فائدہ مند ثابت ہونا تو درکنار الٹا نقصان کا سبب ہے۔ کیونکہ انسانوں کی موجودگی اور ان میں نسلی سلسلے کا سارا دار و مدار ہی ”مخالف جنس“ کی جانب کشش اور اشتہا پر ہے۔ جو کہ ہم جنسیت کی فضا کے نمو پانے کی صورت میں گھٹتا چلا جائے گا۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی زیرِ غور رہے کہ ایک ہم جنس پسند شخص اپنی مخالف جنس سے اولاد پیدا کرنے کے قابل ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس میلان کو اگر کھلی آزادی دی جائے تو اولاد پیدا کرنا ”بحیثیتِ فرد“ ایک غیر ضروری یا غیر مرغوب عمل ٹھہرے گا۔ اور یوں آبادی کے مجموعی اعداد و شمار پر اثر آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   علمِ عَروض سبق ۹

پس نوشت:
اس تحریر میں میں نے اسلامی یا مذہبی رائے کوشامل کرنا اس لیے غیر ضروری سمجھا ہے کہ اس سے ہم میں سے ہر ایک شخص واقف ہے۔ معروضی حیثیت سے ہم جنسیت پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن تحریر کی طوالت کے خوف سے اختصار پر اکتفا کیا گیا ہے۔

(508 مرتبہ دیکھا گیا)

مزمل شیخ بسمل

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھ کو لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں