8 اکتوبر 2005 - ہولناک یادیں

ہم یونیورسٹی کی بس پر ہاسٹل سے اولڈ کیمپس (موجودہ سٹی کیمپس) کی جانب جا رہے تھے۔ کلاس کا ٹائم شروع ہونے والا تھا۔ اس لیے بار بار متفکر انداز میں گھڑی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ سنٹرل پلیٹ میں لاہوری ہوٹل کے پاس ہی پہنچے تھے کہ گاڑی ہلنے لگی۔ گاڑی سے باہر سامنے دیکھا تو بچے سکول جانے کے لیے ہائی ایس میں بیٹھ رہے تھے لیکن وہ ہائی ایس اچھلنے لگی۔ بچے پیچھے گرے اور گاڑی بچوں کے پاؤں والی جگہ پر اچھلنے لگی۔ میں فوراً یہی سوچنے لگا کہ کیسا پاگل ڈرائیور ہے جو دیکھ بھی نہیں رہا کہ گاڑی کے نیچے بچے کچلے جا رہے ہیں اور وہ گاڑی کو بار بار اچھال رہا ہے۔ ابھی چند ہی سیکنڈ گزرے تھے کہ جھٹکے شدید ہو گئے۔ ہماری گاڑی زوردار انداز میں اچھلنے لگی۔ فضا میں گرج کی بھاری اور خوفناک آواز آنے لگیں۔ عمارتیں اور سامنے دکھائی دینے والے پہاڑ ہچکولے کھانے لگے۔ سٹوڈنٹس سیٹوں سے اچھل اچھل کر ادھر ادھر ٹکرانے لگے۔ فضا میں پلک جھپکنے میں گرد ہی گرد ہو گئی۔ ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ شاید قیامت آ گئی ہے۔ اسی لیے پہاڑ ہلنے لگے ہیں۔ فضا میں خوف تھا اور یوں لگتا تھا جیسے ہر انسان کا کلیجہ اس کے حلق میں آ گیا ہو۔ یہ کیفیت شاید ایک آدھ منٹ ہی رہی ہو گئی۔ آہستہ آہستہ ہچکولے کم ہو گئے اور زمین اپنی جگہ پر تھم گئی۔
میں نے ایم ایس سی کے لیے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد میں داخلہ لیا تھا۔ ابھی یونیورسٹی میں آئے ہوئے محض دو ہفتے ہی گزرے تھے۔ ہماری رہائش نیو ہاسٹل چہلہ بانڈی میں تھی۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ حسب معمول سحری کے وقت اٹھے، سحری کے بعد نماز ادا کی اور پھر تھوڑی دیر بستر پر دراز ہو گئے۔ جب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ یونیورسٹی سے لیٹ ہو چکے ہیں۔ کلاس شروع ہونے میں تھوڑی دیر ہی رہ گئی ہے۔ خوف تھا کہ ٹیچر سے ڈانٹ پڑے گی۔ اس لیے جلدی میں منہ ہاتھ دھویا کپڑے تبدیل کیے اور دوڑ پڑے۔ گیٹ پر ہی یونیورسٹی کی گاڑی مل گئی تو امید بندھ گئی کہ کلاس میں وقت پر پہنچ جائیں گے۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ راستے میں ہی قیامت صغریٰ برپا ہو گئی۔
جب جھٹکے تھم گئے تو ہم سب گاڑی سے نیچے اتر آئے۔ اتنا شدید منظر دیکھنے کے بعد بھی ہمیں نقصان کا ٹھیک اندازہ نہیں تھا۔ ہمیں ٹھیک سے پتہ نہیں چلا تھا کہ یہ کیا واقعہ ہوا ہے؟ میں سوچ رہا تھا کہ شاید یہ کوئی بم دھماکہ ہوا ہے یا پھر انڈیا نے ہم پر ایٹم بم چلا دیا ہے۔ لیکن اتر کر کسی نے بات کی کہ یہ زلزلہ آیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ ہر طرف عمارتیں گر چکی ہیں۔ گاڑیاں الٹی سیدھی پڑی ہیں۔ میں اور میرا ایک دوست تنویر حسین یونیورسٹی کی جانب چل پڑے۔ ہمیں بالکل نہیں پتہ تھا کہ باقی جگہوں پر کیا صورت حال ہے؟ جوں جوں آگے بڑھتے گئے صورت حال واضح ہوتی چلی گئی۔ کوئی عمارت سلامت نہیں تھی۔ سی ایم ایچ مظفرآباد اور یونیورسٹی ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ باٹنی ڈیپارٹمنٹ کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ اپنے کلاس فیلوز کی لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئےہیں۔ کسی کا سر ملبے کے اندر ہے اور دھڑ باہر تو کسی کا دھڑ اندر ہے تو سر باہر۔ سکتہ طاری کر دینے والا منظر تھا۔ کیفیت ایسی تھی کہ کاٹو تو لہو نہیں۔
ایک جگہ پر سلنڈر پھٹنے سے آگ بھی لگی ہوئی تھی۔ اندر سے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھی۔ میں دوسری طرف سے گھوم کر اس مقام پر پہنچا۔ سارے کمرے گر چکے تھے صرف ایک برآمدہ باقی تھا۔ دروازے میں ایک آدمی پھنسا ہوا تھا۔ میں نے اس کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن خوف کے مارے واپس آ گیا کہ کہیں برآمدہ مجھ پر گر ہی نہ جائے۔ لیکن چیخوں کی آوازوں سے متاثر ہو کر اللہ کا نام لے کر برآمدے کے نیچے پہنچ ہی گیا اور پتھر وغیرہ ہٹانے شروع کر دیے۔ ساتھ ہی صحن میں کھڑے لوگوں کو آوازیں دیں۔ کچھ لوگ متوجہ ہوئے۔ سب نے کوشش کی تو ملبے تلے سے ایک فرد کو نکالنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔ جس کی ٹانگیں وغیرہ ٹوٹ چکی تھیں اور پورا جسم زخمی تھا۔ اس کو نکالتے ہوئے ایک پٹھان کے اوپر تیزاب بھی گر گیا اور اس کا کافی بدن جل گیا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اورنہایت بہادری سے بڑے بڑے پتھر ہٹا کر اس فرد کو نیچے سے نکالا۔ برآمدے سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز پروفیسر ڈاکٹر رستم خان صاحب کو نہایت زخمی حالت میں ملبے کے نیچے سے نکال کر صحن میں کرسی پر بٹھایا گیا تھا۔
وہاں سے اپنی کلاس کی طرف واپسی ہوئی تو میرا دوست تنویر اور کچھ دوسرے سنیئر ساتھی ملبے کے نیچے سے زخمی ساتھیوں کو نکال رہے تھے۔ میں نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد تقریباً چار کلاس فیلوز کو زندہ ملبے سے نکال لیا گیا۔ ملبے تلے زندہ پھنس جانے والے لوگوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ دوسرے دن تک لوگ صرف انہیں کو نکالنے میں مشغول رہے اور لاشوں کو نکالنے کی طرف کوئی دھیان نہ دیا جا سکا۔ میرے دو کلاس فیلوز عبدالقدیر اور عمران کی لاشیں اس طرح راستے میں پھنسی ہوئی تھیں کہ خود میں چند دفعہ ان کے اوپر سے چھلانگ لگا کر گزرنا پڑا۔ ہر دفعہ عمران کی لاش کے اوپر سے چھلانگ لگاتے ہوئے کلیجہ پھٹ سا جاتا تھا۔ زندہ پھنسے ہوئے کلاس فیلوز اس قدر اذیت میں تھے کہ ہم اپنے ان ساتھیوں کی لاشوں پر چاہنے کے باوجود کوئی توجہ نہ دے سکے۔
تھوڑی ہی دیر میں ہماری جسمانی قوت جواب دینے لگی۔ اب دو ہی راستے سامنے تھے کہ یا تو کام کرنا چھوڑ دیا جائے یا پھر روزہ توڑ دیا جائے۔ سو ہم پر اپنی کمزوری غالب آ گئی ۔ ہم یونیورسٹی مسجد کی طرف گئے اور جا کر پانی پیا۔ اولڈ کیمپس کی تمام عمارتیں زمین بوس ہو چکی تھیں۔ سٹوڈنٹس کی بڑی تعداد ملبے تلے دبی ہوئی تھی۔ امدادی کام انتہائی محدود پیمانے پر جاری تھا۔ خاصی تعداد میں طلباء نیو کیمپس چہلہ بانڈی میں موجود تھے لیکن خوف کا ایسا عالم تھا کہ بہت کم چہلہ بانڈی دریائے نیلم کا پل کراس کر کے اولڈ کیمپس پہنچ سکے۔ اور جو آ گئے ان کی اکثریت بھی اتنا بڑا حادثہ دیکھ کر دہل گئی۔ یوں قابل ذکر امدادی کام نہ ہو سکا۔ بس انفرادی طور پر تھوڑی تعداد میں طلباء اور مقامی لوگ کچھ کام کر رہے تھے۔
دن گیارہ بجے تک ہماری کلاس کے تمام طلباء و طالبات کو نکالا جا چکا تھا۔ صرف ایک طالبہ باقی تھی۔ اس کے ایک بازو پر بہت بڑا بیم ٹوٹ کر گرا تھا۔ جس نے نیچے اس کا بازو دب چکا تھا۔ اس طالبہ کو نکالنے کے لیے اس بیم کو توڑنا ضروری تھا۔ بیم انتہائی بڑا، کنکریٹ کا بنا ہوا اور مضبوط تھا۔ اسے توڑنے کے لیے پتھروں سے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ ہم چند دوست مل کر اس کو توڑتے رہے۔ نصف دن کے قریب ایک آدمی ہمارے پاس سے گزرا جس نے لوہے کا ایک بڑا لیور اٹھا رکھا تھا۔ میں نے اس سے جا کر درخواست کی کہ ہمارے پاس آؤ اور ہماری مدد کرو۔ اس نے بتایا کہ میں دو یا تین بچے سکول کے ملبے تلے دب کر مر چکے ہیں اور انہیں نکالنے جا رہا ہوں۔ میں نے اس سے التجا کی کہ تمہارے بچے تو مر چکے ہیں۔ ادھر چند افراد کے زندہ نکلنے کا امکان ہے تو تھوڑی دیر ادھر آؤ۔ میں اس شخص کے حوصلے کو آج بھی داد دیتا ہوں۔ اس نے اپنے بچوں کو ملبے تلے چھوڑ کر ایک گھنٹہ سے زائد ہماری مدد کی۔ اور بیم کو توڑنے میں خاصی مدد کی۔ اللہ اسے اس کا اجر کئی گنا بڑھا چڑھا کر عطا کرے۔
ہماری اسی کوشش میں عصر کا وقت ہو گیا۔ لیکن بیم تھا کہ ٹوٹنےکا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ افراد تھک ہار کر جاتے رہے۔ میں اور تنویر بھائی نئے افراد کو آوازیں دے کر بلاتے رہے اور خود بھی بیم کو لگاتار توڑتے رہے۔ اسی دوران یونیورسٹی گراؤنڈ میں ایک ہیلی کاپٹر بھی آیا۔ ہم نے اس کے ذمہ داران سے بھی درخواست کی کہ ہیلی کاپٹر سے رسہ باندھ کر صرف ایک منٹ کے لیے بیم کو اٹھانے میں مدد کریں تاکہ ہم اپنی زخمی بہن کو وہاں سے نکال سکیں۔ لیکن شاید تکنیکی طور پر یہ ممکن نہیں تھا۔ اس لیے ان کی طرف سے ہمیں کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ اب رات کا اندھیرا چھانے لگا۔ آسمان پر بادل نمودار ہونے لگے۔ روشنی کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا۔ ہم نے بہت کوشش کی لیکن روشنی کا کوئی انتظام نہیں ہو سکا۔ میں نے ایک انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ طالبہ بیم کے نیچے اس طرح پھنسی ہوئی تھی کہ تھوڑی سی بارش سے وہاں پانی جمع ہو جاتا اور وہ اس میں ڈوب جاتی۔ میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کا بازو کھینچ کر توڑ دیا جائے اور اس کے جسم سے الگ کر کے اس کو جلد از جلد باہر نکال لیا جائے۔ اس فیصلے پر عمل کرنے کے لیے جب میں نے وہاں موجود تنویر بھائی اور دوسرے افراد سے کہا تو اس طالبہ نے نہایت دردمندانہ انداز میں اپیل کی کہ یاسر بھائی میرا بازو نہ کاٹیں۔ میں نے اس سوچ کے تحت اپنا فیصلہ بدل ڈالا کہ شاید اس کا بازو سلامت نکل آئے۔ ورنہ وہ پوری زندگی مجھے ہی اپنے بازو کے کٹنے کا زمہ دار سمجھے گی۔ اور اسے میرے اس عمل پر ہمیشہ افسوس رہے گا۔
میرے اندازے کے مطابق اس کا بازو کچل کر ختم ہو چکا تھا۔ لیکن پھر بھی ہم نے اس کو کھینچ کر باہر نکالنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اور بھرپور قوت سے بیم توڑنے لگے۔ آخر کار بیم ٹوٹ ہی گیا۔ اور اس طالبہ کو نیچے سے نکال لیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس کا بازو مکمل طور پر ٹوٹ کر کچل چکا ہے اور جسم سے الگ ہو چکا ہے۔ میں نے اس کو ساتھ جوڑ کر تولیے سے لپیٹ دیا اور ہم سب نے اسے اٹھا کر سڑک پر کھڑی ایک ایمبولینس میں رکھ دیا۔ اس کے بعد اس کی دیکھ بھال کچھ دوسری طالبات نے اپنے ذمے لے لی۔ اور ہم اندھیرے میں ادھر ادھر گھومنے لگے۔ ہر جگہ لاشیں ہی لاشیں اور زخمی کراہ رہے تھے۔ کوئی والدین ہیں اور بچے نہیں اور کسی جگہ بچے ہیں تو ان کو دیکھنے والا کوئی نہیں۔ اس ایک دن میں ان گنت عجیب واقعات پیش آئے۔ اس ہولناک دن میں بھی اغواء اور چوری کی بے شمار وارداتیں ہوئیں۔ اللہ ایسے افراد کو غارت کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایثار اور قربانی کی بھی بے شمار داستانیں رقم ہوئیں۔
شام کے وقت ابراہیم ضیاء ایڈووکیٹ صاحب اپنے بھائی کے ہمراہ اپنی بیٹی کی لاش لینے ہمارے پاس پہنچے۔ غالباً اس کا نام سعدیہ ضیاء تھا۔اور وہ ہماری کلاس فیلو تھی۔ ہم نے لاش اٹھا کر سڑک کی دوسری جانب کھلی جگہ پر رکھی۔ انہوں نے ہمیں چند کھجوریں کھانے کے لیے دیں۔ اور نہایت محبت سے ہمارے ساتھ پیش آئے۔ ہمیں حوصلہ دیا۔ پھر اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اپنی بیٹی کی لاش کو اٹھا کر چل دیے۔ مظفرآباد کی وہ رات سرد تھی۔ اوپر سے بارش ہونے کی وجہ ٹھنڈ میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ہمارے پاس آسمان کے علاوہ کوئی چھت نہیں تھی۔ ساری رات سردی میں کانپتے ہوئے گزاری۔ صبح روشنی ہوتے ہی دیکھ پوری یونیورسٹی میں گھوم پھر کر دیکھا۔ لیکن اس وقت کوئی زخمی ملبے تلے نہیں تھا۔ جسم اس قدر شل ہو چکا تھا کہ لاشوں کو نکالنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر تاج محمد خٹک کی لاش مین گیٹ کے ساتھ پڑی ہوئی تھی۔ ہمارے دوست کے والد صاحب وہاں پہنچ آئے تھے۔ ان کے پاس موبائل فون تھا۔ میں نے ان سے فون لے کر فوری طور پر کراچی میں اپنی خالہ کو اپنی خیریت کی اطلاع دی اور کہا کہ آزاد کشمیر میں میرے گھر فون کر دیں۔ انہوں نے شہر کی حالت پوچھی تو میں نے بتا دیا کہ اب یہاں ملبے کے علاوہ کچھ بھی باقی ہیں بچا۔ پھر نہایت ہی دکھی دل کے ساتھ ہم نیو کیمپس چہلہ بانڈی آ گئے۔
ایک دکان کھلی تھی۔ اس سے تھوڑے سے بسکٹ ملے۔ ہم دوستوں نے وہ کھا لیے۔ اور ادھر ہی زمین پر لیٹ گئے۔ پاس سے کتنے ہی جنازے جا رہے تھے لیکن اتنی ہمت نہیں تھی کہ اٹھ کر جنازہ ہی پڑھ لیتے۔ جب زلزلے کا کوئی جھٹکا لگتا تھا تو اسی وقت آنکھ تھوڑی دیر کیلئے کھلتی تھی۔ جب دھوپ اچھی طرح پھیل گئی ہمارے سنیئرز نے کہا کہ تمام نئے سٹوڈنٹس او رطالبات واپس چلے جائیں جبکہ وہ لاشوں اور زخمیوں کے پاس رک گئے۔ میں نے ہاسٹل سے ڈرتے ڈرتے اپنا بیگ اور کمبل نکالا۔ اور اپنی چند کتب۔ وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ کتابیں یونیورسٹی کے اندر ہی ایک دیوار پر رکھ دیں۔ اور کمبل راستے میں ایک سنیئر کلاس فیلو کو دے دیا۔ بیگ میں صرف کپڑے ، چند کتابیں اور کچھ ضروری کاغذات تھے۔ ہم نے مظفرآباد سے لوہار گلی تک کا سفر پیدل طے کیا۔ انتہائی تھکاوٹ کا عالم تھا۔ طالبات کے لیے یہ سفر اور بھی مشکل تھا۔ باقی لوگ چلتے ہوئے بہت آگے نکل گئے۔ ایک طالبہ سب سے پیچھے رہ گئی۔ میں سب سے آخر میں چل رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ بہن تیز چلو۔ لیکن اس سے چلا نہیں جا رہا تھا۔ بالآخر وہ تھک ہار کر بیٹھ گئی اور کہنے لگی کہ آپ مجھے چھوڑ کر چلے جائیں۔ اس جنگل میں اسے یوں اکیلے چھوڑ کر جانا مناسب نہیں تھا۔ میں نے اس کا بیگ اٹھایا اور تھوڑی دوڑ لگا کا آگے جانے والے کچھ سٹوڈنٹس کو روکا۔ اور ساتھ اسے بھی کہا کہ ہمت سے کچھ نہ کچھ چلتی رہو۔ کئی گھنٹے اس حالت میں چلنے کے بعد ہم عصر کے قریب لوہار گلی پہنچ گئے۔
وہاں ہمارے پہلے پہنچنے والے ساتھیوں نے ایک ہائی ایس کرائے پر لے لی۔ اس نے ہمیں مانسہرہ تک ڈراپ کیا۔ کرایہ روٹین سے تھوڑا زیادہ تھا لیکن اس وقت یہ بھی غنیمت تھا۔ وہاں سے ہم نے راولپنڈی کی گاڑی کی تلاش شروع کر دی۔ میں تھوڑی دیر کے لیے مسجد کی طرف گیا۔ واپس آیا تھا تمام ساتھی گاڑی میں بیٹھ کر جا چکے تھے۔ ہمارے ایک دوست کے پاس موبائل تھا۔ میں نے پی سی او سے فون کرنے کی کوشش کی لیکن نمبر نہیں ملا۔ میں ایک دوسری گاڑی میں بیٹھ کر راولپنڈی روانہ ہو گیا۔ راولپنڈی پہنچ کر میں نے لاہور والی گاڑی پکڑی اور رات کو سفر کرتے ہوئے گجرات آ گیا۔ گجرات سے کوٹلہ اور پھر وہاں سے بھمبر۔ بھمبر پہنچتے ہوئے دھوپ خاصی نکل آئی تھی۔ بھوک اور تھکاوٹ سے جسم میں طاقت بالکل نہیں تھی۔ جبکہ کپڑے خون اور گرد آلود تھے۔
بھمبر میں ہم نے اپنی کلاس فیلو ہیڈ ماسٹر خورشید صاحب کی بیٹی ربیعہ خورشید کی نماز جنازہ ادا کی اور پھر گھر واپس آ گئے۔ گھر واپس آئے تو پتہ چلا کہ والد صاحب اور ماموں کوہالہ سے پیدل سفر کرکے مظفرآباد پہنچ چکے ہیں۔ البتہ خیریت کی اطلاع ملنے پر دوسرے دن واپس آ گئے۔میں نے گھر آ کر فوری طور پر الخدمت فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر زلزلہ متاثرین کے لیے فنڈنگ اور امدادی سامان جمع کرنا شروع کر دیا۔ میں امدادی ٹیم میں واپس مظفرآباد یا باغ جانا چاہتا تھا لیکن الخدمت فاؤنڈیشن سماہنی کے صدر چوہدری محمد کریم صاحب نے میری ذمہ داری فنڈنگ پر ہی لگا دی اور واپس جانے کا موقع نہ مل سکا۔ چند ماہ انتظار کے بعد ہماری یونیورسٹی کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں مختلف جگہوں پر شفٹ کر دیا گیا۔ ایک سال یہاں گزارنے کے بعد واپس مظفرآباد چلے گئے۔ کچھ زخمی دوست بھی دوبارہ کلاس میں واپس آ گئے۔ جبکہ کچھ ہمیشہ کے لیے ساتھ چھوڑ گئے۔ اللہ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آج اس واقعے کو سال گزر چکے ہیں۔ لیکن یہ ذہن اسی طرح تازہ ہے۔ ہر سال یہ کوشش کرتا رہا کہ یہ تاثرات قلمبند کروں لیکن بوجوہ ایسا نہ کر سکا۔ آج دس سال بعد چند یادیں لکھنے کی ہمت ہوئی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری انفرادی و اجتماعی لغزشوں کو معاف فرمائے۔ ہمارے مرحوم ساتھیوں کی مغفرت کرے اور آئندہ ہمیں ایسے سانحات سے محفوظ رکھے۔ آمین

یہ بھی پڑھیں:   کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے؟

(37 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں