مصنف: شاد مردانوی

دید 0

نیار خلجانی

وہ میں تھا۔میرا اپنا مہاندرہ ایک جداگانہ سروپ میں، میرے گِل و خارا سے متمیز ایک جداگانہ تشخص کے ساتھ میرے دائرۂ نگاہ کے محیط کے اندر دکھتا تھا۔ وہ "میں" کیوں تھا۔؟ وہ...

5

ایک غزل پر تنقید و تبصرہ

خود قتل کرکے خود ہی بنا ہے وہ مدعی اے ہم نشیں تو یار کے یہ کاروبار دیکھ اس قسم کا خیال کہ مرنے کے بعد یار کے جور کا شکوہ کیا جائے. روایتی...

دید 0

کل رات

آو۔۔۔۔۔! کہ تمہیں اپنی بد گمانیوں کا تدارک ملے۔۔ اے میرے آس پاس رہنے والے۔۔۔! اے۔۔۔۔! اس دنیا کے واحد فرد جو میری رگِ جاں میں گونج رہا ہے۔ آبھی جا کہ میری آواز...

دید 0

اداسیوں کے عواطف

قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ عورت دکھ سہتی ہے،دکھ جھیلتی ہے، اس کا وجود دکھ کیلئے تخلیق ہوا ہے، دکھ اسے اپنا سانجھی سمجھتا ہے. عورت کا دکھ...

3

میں کیوں لکھتا ہوں ؟

میں نے سطریں کیوں کھینچیں..؟ میں نے قرطاس کے سینے پر سیاہ ہیولے کیوں بنائے..؟ اور ان ہیولوں میں افلاس، غم، حسرت اور نا امیدی کے گہرے سلیٹی رنگ کیوں بھرے.؟ میں اس جانکنی...

0

شعر میں جمالیاتی پہلو - ایک شعر پر تبصرہ

نگاہِ یار سے اوجھل ہوں اس لیے شاید خیالِ یار سے آگے نکل گیا ہوں میں استاد کا حکم آیا ہے کہ درج بالا شعر پر کچھ گزارشات پیش کروں. بظاہر اس حکم سے...

5

تین اشعار پر تعمیری تنقید - شاد مردانوی

کئی دنوں سے لگاتار گررہی ہے ابھی فصیلِ شہرِ دلِ زار گررہی ہے ابھی مطلع میں فصیلِ شہر کا لگاتار گرنا سمجھ نہیں آرہا. لگاتار صرف وہی شے گر سکتی ہے جس کا گرنا...

0

خلفشار

ہم جانتے آئے ہیں. اور ارتقاء اسے سچ ثابت کرتا آیا ہے. اس کی مخالفت تو عقیدت (اکابر، مقابر، مسلک ومشرب کی) اور عقیدہ بھی نہیں کرتا. یہ سچ ہے اور یہی سچ ہے....