آن لائن آمدنی کیسے حاصل کی جائے؟

آن لائن آمدنی کا خواب آج کل ہر پڑھا لکھا نوجوان ضرور دیکھتا ہے۔ لیکن درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے کسی کے ہاتھوں لُٹ جاتا ہے یا مایوس ہو کر کوشش ترک کر دیتا ہے۔ یہ تحریر ان تمام دوستوں کی رہنمائی کے لیے لکھی گئی ہے جو وقتاً فوقتاً آن لائن آمدنی کے لیے سوالات کرتے رہتے تھے۔

آن لائن آمدنی ایک حقیقت ہے

سب سے پہلے تو یہ بات واضح طور پر ذہن نشین کر لیں کہ آن لائن آمدنی ایک حقیقت ہے۔ یہ محض واہمہ یا فراڈ نہیں ہے۔ اس وقت دنیا میں اربوں روپے کا آن لائن کام نہایت کامیابی سے کیا جا رہا ہے۔ ہر وہ کام آن لائن کیا جا سکتا ہے جو دنیا میں آف لائن یا عام زندگی میں کیا جا رہا ہے۔ لیکن آن لائن آمدنی کا خواب جتنا سہانا ہے اتنا ہی پیجیدہ بھی ہے۔ آن لائن ڈالر حاصل کرنے کے لیے بھی اسی طرح تندہی سے کام کرنا پڑتا ہے جیسے آپ عام حالات میں اپنی جاب یا کاروبار کا کام کرتے ہیں۔ بلکہ آن لائن کام اس سے ایک درجہ زیادہ مشکل ہے کہ اس میں کام میں مہارت کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال پر بھی مہارت ہونی چاہیے۔ آن لائن کام کی کئی اقسام ہیں لیکن اپنی سہولت کے ہم اس کو تین حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا یا محض قوتِ محرکہ ؟

اول: آن لائن فروخت

یہ آن لائن آمدنی حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آپ فروخت کے لیے کسی بھی چیز کا انتخاب کریں۔ اس کے بعد ایک ویب سائٹ بنوائیں۔ اس پر اپنی مصنوعات کا تعارف پیش کریں اور گاہکوں کو سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے اس کی طرف مائل کریں۔ آن لائن آرڈر حاصل کریں اور کوریئر سروس کے ذریعے متعلقہ چیز گاہک تک پہنچا دیں۔ رقم کی وصولی پہلے بھی ہو سکتی ہے اور ڈلیوری کے وقت بذریعہ ڈاک بھی۔

یقناً اس کا پر بہت سرمایہ درکار ہے۔ آف لائن دکان یا سٹور کی طرح یہاں بھی درکار ہے۔ اضافی اخراجات میں ویب سائٹ کی تعمیر، مصنوعات کا تعارف اور اس کو سوشل میڈیا پر پرموشن شامل ہیں۔ ہر فرد اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس میں نہ صرف سرمایہ اور مہارت درکار ہے بلکہ آف لائن کام کی نسبت گاہک کو متوجہ کرنے کے لیے زیادہ صبر اور کوشش بھی درکار ہے۔

دوم: آن لائن خدمات

اگر آپ کے پاس مذکورہ بالا کام کے لیے سرمایہ نہیں تو پھر آپ آن لائن اپنی مہارت سے لوگوں کو سروس دے کر رقم کم سکتے ہیں۔ اس کام کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ پہلی کہ آپ کسی ایسے کام کے اندر ماہر ہوں جو آن لائن کیا جا سکتا ہو۔ دوسرے آپ کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال پر مہارت ہو۔ مثلاً سافٹ ویئر ڈیزائننگ ، ویب ڈیزائننگ ، گرافک ڈیزائننگ ، آن لائن کنسلٹنسی ، آن لائن ٹیچنگ ، آرٹیکل رائٹنگ وغیرہ۔ انٹرنیٹ پر ایسی قابل اعتماد ویب سائٹس موجود ہیں جو ان کاموں کے ماہرین کو مناسب معاوضہ دیتی ہیں۔ اس میں کسی قسم کے نقصان کا خدشہ بھی نہیں اور نہ ہی کسی انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ بس مہارت اور وقت کی پابندی شرط ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ننگا مصافحہ

سوم: دیگر چھوٹے موٹے کام

اگر آپ کے پاس سرمایہ بھی نہیں اور نہ ہی کسی کام میں مہارت ہے تو پھر انٹرنیٹ پر پرکشش آمدنی کا خواب محض ایک دھوکہ ہے۔ عام مزدوری کی طرز پر آن لائن بھی چھوٹے موٹے کام مل جاتے ہیں لیکن ان میں بھی اتنا ہی وقت اور محنت درکار ہے جتنی کسی آف لائن کام میں۔ یعنی آپ اسے انٹرنیٹ کی مزدوری کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً ٹائپنگ ، مارکیٹنگ ایجنٹ وغیرہ

مارکیٹنگ کرنے والی بڑی کمپنیوں کو ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے اشتہارات پڑھیں اور ان کو اپنے حلقہ احباب تک شیئر کریں۔ وہ ایسا کرنے کا معاوضہ بھی دیتے ہیں لیکن ان کے اہداف بڑے مشکل اور وقت کم ہوتا ہے۔ اس میں بھی وہی فرد کامیاب ہو سکتا ہے جو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو بہترین استعمال کر سکتا ہو۔ ایسی کافی کمپنیاں ہیں جو آپ کو ای میلز پڑھنے اور ان کے لنکس فیس بک ، ٹوئیٹر پر شیئر کرنے پر مخصوص تعداد میں کلکس ہونے پر رقم ادا کرتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے بھی آپ کو کڑی محنت اور انفرادی رابطوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے اگر وہ ایک لنک پر سو دفعہ کلک کرنے کےاڑھائی ڈالر دیں تو آپ کو سو کلک کروانے کے لیے اپنے پانچ سو دوستوں سے ضرور رابطہ کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ابھی تو میں جوان ہوں!

خلاصۂ کلام

مندرجہ بالا مضمون کا مقصد ان افراد کی حوصلہ شکنی نہیں ہے جو سرمایہ یا مہارت رکھتے ہیں۔ بلکہ ان افراد کو دھوکہ دہی سے بچانا ہی جو بغیر کسی مہارت اور انویسٹمنٹ کے بس کلک کرنے پر ہی ڈالر چھاپنا چاہتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ افراد کچھ کر ہی نہیں سکتے۔بس سیکھنے اور صبر کے ساتھ کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ایسے افراد کو سب سے پہلے اپنی طبع کے موافق کام کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اس کے بعد اس کام کے لیے ضروری مہارتوں کو سیکھنا چاہیے اور پھر مستقل مزاجی اور دلجمعی سے کام کرکے آمدنی کی توقع رکھنی چاہیے۔ بغیر محنت ڈالروں کے خواب دیکھنا بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں۔

(334 مرتبہ دیکھا گیا)

یاسر غنی

یاسر غنی

یاسر غنی صاحب سائنس کے شعبے نباتیات میں ماسٹرز ہیں۔ فی الحال ایک کالج کے پرنسپل ہیں اشاعت و بلاغت میں سر گرم ہونے کے ساتھ مطالعے کو اپنا مشغلہ رکھتے ہیں۔ اور لوکل اخبارات میں "نشانِ منزل" کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہتے ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

تبصرہ کریں